نئی دہلی 17 جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) اپوزیشن کے مطالبہ کو قبول کرتے ہوئے حکومت نے راجیہ سبھا میں غزہ میں جاری اسرائیل کے وحشیانہ حملوں پر مباحث سے اتفاق کیا اور یہ مباحث پیر کو ہونگے ۔ تاہم حکومت کی جانب سے اس اتفاق سے قبل راجیہ سبھا میں مسلسل ہنگامہ آرائی ہوئی اور دن بھر کی کارروائی متاثر رہی ۔ یہ بھی شبہات ہیں کہ مباحث سے حکومت کے اتفاق کے باوجود شائد کل جمعہ کو بھی ایوان میں نظم کے مطابق کام ہوگا کیونکہ اپوزیشن جماعتیں حکومت کے موقف سے مطمئن نہیں ہیں اور وہ چاہتی ہیں کہ مباحث جلد منعقد کئے جائیں ۔ اپوزیشن کا یہ استدلال ہے کہ اس سنگین مسئلہ پر ہندوستانی پارلیمنٹ کی خاموشی سے پہلے ہی دنیا کو ایک غلط پیام جاچکا ہے ۔ گذشتہ دو دن سے مسلسل یہ مسئلہ ایوان میں ہنگامہ کا باعث رہا ہے اور کارروائی متاثر ہو رہی ہے کیونکہ اپوزیشن کا یہ اصرار رہا ہے کہ اس مسئلہ پر ایوان میں جلد از جلد مباحث کئے جائیں جبکہ حکومت نے اس کوشش کی شدید مزاحمت کی ہے ۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اگر کوئی تلخ ریمارک کیا جاتا ہے تو اس کے نتیجہ میں اسرائیل اور فلسطین کے ساتھ ہندوستان کے روابط متاثر ہونگے ۔
وزیر خارجہ سشما سواراج نے راجیہ سبھا کے صدر نشین جناب حامد انصاری کو تحریر کیا ہے کہ اپوزیشن ارکان نے اس مسئلہ پر مباحث کیلئے جو نوٹسیں دی ہیں وہ ناقابل قبول ہیں تاہم ان کے استدلال کو مسترد کردیا گیا ہے ۔ اس کے باوجود جناب حامد انصاری نے فوری مباحث کے حق میں رولنگ نہیں دی اور کہا کہ مباحث کیلئے تاریخ کا حکومت سے مشاورت کے بعد تعین کیا جائیگا ۔ ایوان میں جاری ہنگامہ آرائی کے نتیجہ میں جب ایوان کی کارروائی دن بھر کیلئے متاثر ہوئی حکومت نے شام کے اوقات میں پیر کے دن ایوان میں مباحث کیلئے اتفاق کیا ۔ کانگریس ‘ بائیں بازو کی جماعتوں ‘ سماجوادی پارٹی ‘ جنتادل یو اور ترنمول کانگریس ایوان میں فوری مباحث کے اپنے مطالبہ پر اٹل رہے ۔ سرکاری ذرائع نے کہا کہ غزہ میں جاری بمباری کے مسئلہ پر راجیہ سبھا میں پیر کو دو پہر 12 بجے مباحث ہونگے ۔ ( پارلیمنٹ میں ہنگامہ سے متعلق خبر دیگر صفحات پر )