نئی دہلی۔ 16 جون (سیاست ڈاٹ کام) غذائی اشیاء اور مشروبات جیسے کافی، چائے، مرغیاں، مچھلیاں اور ترکاریاں ماہِ مئی میں گزشتہ پانچ ماہ کی اعظم ترین قیمت کی سطح پر پہنچ گئیں جس کے نتیجہ میں غذائی افراطِ زر بھی گزشتہ پانچ ماہ کے اعظم ترین فیصد یعنی 6.01% تک پہنچ گیا۔ ٹھوک فروش قیمت کا اشاریہ جو افراطِ زر کی بنیاد پر محسوب کیا جاتا ہے، گزشتہ سال ماہِ اپریل میں 5.20% اور ماہ مئی میں 4.58% تھا۔ وزارتِ صنعت و تجارت نے آج جو معلومات فراہم کی ہیں، ان کے بموجب غذائی اشیاء ماہ مئی میں زیادہ مہنگی ہوگئیں۔ کافی23، مرغیاں 7، مچھلیاں 6 اور پھل کی قیمت میں7 فیصد اضافہ ہوا جبکہ ترکاریاں 4 فیصد زیادہ مہنگی ہوگئیں۔ روزمرہ استعمال کی دیگر اشیاء جن کی قیمت میں اضافہ ہوا، ان میں مسالے، دالیں ، چاول، دودھ، جَو اور خنزیر کا گوشت اور بکرے کا گوشت شامل ہیں، تاہم مکئی کی قیمتوں میں 5 فیصد، گیہوں اور لچھنا کی قیمتوں میں 2 فیصد کمی آئی۔ انڈے، جوار اور چنے کی قیمتوں میں ایک فیصد کمی ہوئی۔ صنعتی پیداوار کی اشیاء کے زمرہ میں چائے کی پتی میں 11 فیصد اور گڑھ اور بیکری کی مصنوعات میں فی کس 4 فیصد، مویشیوں کا چارہ اور بھوسے کی قیمت میں فی کس 3 فیصد مصالحوں، کھانڈ ساری شکر اور تیل کی کھلی کی قیمتوں میں فی کس ایک فیصد، کھوپرے کے تیل اور گھی کی قیمتوں میں 2 فیصد، محفوظ ڈبے کی غذائی کی قیمت میں 3 فیصد اضافہ ہوا۔