عید گاہ کوہیر کی اراضی پر قبضہ کی کوشش

کوہیر۔25‘جنوری(راست)وقف کی ملکیت اللہ کی امانت ہوتی ہے۔لیکن کچھ مفادپرست امانت کسی کی بھی ہو‘اُس میں خیانت کوبہادری سمجھتے ہیں۔منڈل کوہیر مستقرمیں صدیوں پرانی عیدگاہ‘اور اُس سے متصل اراضی اب مفادپرستوں کوکھٹکنے لگی ہے۔ سروے نمبر438کے تحت 20 ایکڑسے زائدزمین وقف کی ملکیت ہے۔اسی زمین پرعیدگاہ واقع ہے۔عیدین کے موقع پر یہ عیدگاہ کوہیرکے علاوہ اطراف واکناف کے مواضعات کے مسلمانوں کے اجتماع کا مرکز ہوتاہے ۔ لیکن ان دنوں اہلیان کوہیر‘اورپڑوسی دیہاتوں کے مسلمان تشویش میں ہیں‘کیونکہ اُنکے مرکزپرمفادپرست بری نظرلگائے بیٹھے ہیں۔ مقامی قائدین محفوظ علی‘ خورشیدچاؤش‘ڈیڈی رشید‘واجدعلی سرور اورمحمودبیگ نے مشترکہ بیان میں بتایاکہ سرکاری ریکارڈ میں عیدگاہ اوراُس سے متصل زمین وقف کی ملکیت ہے‘ لیکن بعض مفاد حاصلہ فرضی دستاویزکے ذریعہ زمین ہڑپنے کی کوشش کررہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ خیرخواہوں نے اُمت مسلمہ کی سہولت ‘اور اتحادکے مظاہرے کے لئے زمین وقف کی تھی ‘

لیکن شخصی مفادکے لئے ہزاروں مسلمانوں کوٹھیس پہنچائی جارہی ہے۔اب اہلیان کوہیرکی نظروقف بورڈ پرہے۔وقف بورڈ کے اسپیشل آفیسرشیخ محمداقبال سے توقعات وابستہ ہیں۔کیونکہ شیخ اقبال نے اپنے عہدہ کاجائزہ لینے کے بعد وقف املاک کوبچانے کے لئے سخت اقدامات اُٹھائے ہیں۔اہلیان کوہیرنے وقف بورڈ کے ذمہ داروں سے اپیل کی کہ وہ اس جانب توجہ دیتے ہوئے عیدگاہ کے تحفظ کویقینی بنائیں‘تاکہ عیدین کے موقع پرمسلمان خشووخضوع کے ساتھ اللہ کے حضورسربہ سجودہوسکیں۔