عہدہ کے متمنی نہیں، خدمت کے جذبہ کا عزم

بودھن 19 ڈسمبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) چیف منسٹر مسٹر کے چندرشیکھر راؤ کی کابینہ میں توسیع کے بعد بودھن کے صحافیوں نے رکن اسمبلی بودھن جناب محمد شکیل عامر سے ملاقات کرتے ہوئے حالیہ توسیع کے دوران ان کے نام کی کابینہ میں عدم شمولیت سے متعلق استفسار پر جناب شکیل نے کہاکہ وہ غریب و پسماندہ عوام بالخصوص اقلیتی طبقات کے مسائل کو حکومت تک پہونچانے کے عزم کے ساتھ سیاسی میدان میں اُترے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ چیف منسٹر تلنگانہ مسلمانوں کے مسائل کی یکسوئی کیلئے سنجیدہ ہیں۔ جناب شکیل عامر نے انکشاف کیاکہ ان کی تجویز پر چیف منسٹر کے سی آر نے شادی مبارک اسکیم کا آغاز کرتے ہوئے ریاست تلنگانہ میں موجود مستحق لڑکیوں کی شادی انجام دینے فی کس 51 ہزار روپئے کی رقم فراہم کی جارہی ہے۔ جناب شکیل عامر نے کہاکہ وہ کسی سرکاری عہدے کے متمنی نہیں ہیں لیکن اگر چیف منسٹر انھیں ذمہ داری سونپتے ہیں تو اسے بخوشی قبول کرنے تیار ہیں۔ تلنگانہ ریاست کے مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات اور ریاستی کابینہ میں 4 مسلم وزراء کی شمولیت کے ٹی آر ایس کے انتخابی وعدوں کی جانب جناب شکیل عامر کی توجہ مبذول کروانے پر انھوں نے کہاکہ مسٹر کے چندرشیکھر راؤ عوام سے وعدہ کرنے سے قبل کافی سوچ سمجھ کر ہی لب کشائی کرتے ہیں۔ جناب شکیل نے تلنگانہ کے مسلمانوں کو مایوس نہ ہونے کا مشورہ دیا اور بتایا کہ مسلمانوں کو تحفظات کی فراہمی کو یقینی بنانے تلنگانہ حکومت نے ایک کمیٹی قائم کی ہے۔ کمیٹی کی رپورٹ وصول ہونے کے بعد مسلمانوں کو تعلیم اور روزگار میں یقینی طور پر 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کی راہ ہموار ہوجائے گی۔ واضح ہوکہ جناب شکیل ریڑھ کی ہڈی میں تکلیف کے باعث گزشتہ ماہ 22 نومبر سے اپولو ہاسپٹل میں زیرعلاج رہے جن کا گزشتہ منگل کو کامیاب آپریشن ہوا۔ ڈاکٹرس نے انھیں مزید 15 دن گھر پر ہی آرام کا مشورہ دیا ہے۔ گزشتہ اسمبلی کے اجلاسوں میں رکن اسمبلی بودھن شرکت نہ کرسکے۔ اس دوران وہ دواخانہ میں زیرعلاج تھے۔ دواخانہ میں ان سے ملاقات کرنے بودھن شہر و ضلع نظام آباد و حیدرآباد کے کئی افراد نے ملاقات کرتے ہوئے ان کی عیادت کی جن میں قابل ذکر ڈپٹی چیف منسٹر جناب محمد محمود علی، ریاستی وزراء ہریش راؤ، پوچارام سرینواس ریڈی، رکن پارلیمان کے کویتاکے علاوہ دیگر قائدین نے بھی جناب شکیل کی عیادت کی۔