ممبئی 15 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) اب جبکہ مہاراشٹرا میں رائے دہی کا عمل شروع ہوچکا ہے وہیں اے ڈی آر (ADR) اور دکشن کی جانب سے سروے کا سلسلہ ہنوز جاری ہے جہاں اب کی بار اُنھوں نے ریاست کی دو اہم قوموں یعنی ہندو اور مسلمانوں کی ترجیحات کے بارے میں سروے کیا ہے۔ حالانکہ کرپشن اور دہشت گردی کے علاوہ خواتین کا تحفظ تقریباً ملک کے ہر شخص کی ترجیحات میں شامل ہے لیکن مہاراشٹرا میں مسلمان ہندوؤں کے مقابلے کرپشن کے خاتمہ کے زیادہ خواہاں ہیں۔ دوسری طرف ہندوؤں کی ترجیحات میں ویسٹ مینجمنٹ ہے۔ اس طرح ٹریفک، دہشت گردی، روزگار، غیر قانونی قبضہ، پینے کا صاف پانی، اچھے اسکول اور اچھی سڑکیں دونوں اقوام کی دیگر ترجیحات میں شامل ہیں۔ جہاں تک دہشت گردی کے صفائے کا تعلق ہے تو یہ بات کہی گئی ہے کہ دیہی علاقوں کے ہندوؤں کو دہشت گردی جیسا مسللہ زیادہ تشویشناک نظر نہیں آتا۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ دہشت گردی کا مسئلہ دیہی نہیں بلکہ شہری ہے اور کم و بیش یہی بات دیہی مسلمانوں کے بارے میں بھی کہی جاسکتی ہے۔ ووٹرس کا زائد تناسب چونکہ دیہی علاقوں سے تعلق رکھتا ہے لہذا دہشت گردی کا خاتمہ یا اس سے حکومت کو نمٹنے کے مطالبات اُن کی ترجیحات میں شامل نہیں ہیں۔ کرپشن اور ویسٹ مینجمنٹ ترجیحات میں شامل ہیں۔