علوم اسلامیہ میں فن حدیث کا عظیم مقام و مرتبہ

کڑپہ ۔ 19 ۔ جون ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) بخاری شریف کو کتب حدیث اور ذخیرہ احادیث کے تمام مجموعوں میں صحت حدیث رسولﷺ کے اعتبار سے اول مقام و مرتبہ حاصل ہے اور علماء فن حدیث نے اصح الکتب بعد کتاب اللہ کا درجہ دیا ہے یہ اس لئے کہ امام بخاری نے جمع حدیث کے وقت نہایت احتیاط کے ساتھ حدیث اوررواۃ حدیث کی صحت ملحوظ رکھتے ہوئے اور ضعیف حدیثوں کی تنقیح کرتے ہوئے سات لاکھ احادیث کے مجموعے میں سے تقریباً سات ہزار حدیثوں کو اپنی کتاب بخاری میں جمع فرمایا ۔ ان خیالات کا اظہار نیلور سے تشریف لائے ہوئے مہمان مولانا ذاکر احمد رشادی ندوی نے کیا۔ جو جامعۃ الصالحات للبنات کڑپہ میں جلسہ افتتاح درس بخاری کو مخاطب کررہے تھے ۔ واضح رہے کہ اس جلسے کا آغاز جامعہ کی ایک طالبہ رابعہ بنت وسیم نیر کی تلاوت قرآن مجید سے ہوا اس کے بعد بارگاہ رسالت مآبﷺ میں نذرانہ عقیدت مولانا عبدالودود ندوی نے اپنی مترنم آواز میں جو نبیؐ سے میرے آشنا ہوگیا ، اس کا دل آئینہ آئینہ ہوگیا ، پیش کیا ۔ امام بخاری کی سیرت بیان کرتے ہوئے مولانا عبدالودوندوی ( ناظم تعلیمات جامعۃ الصالحات کڑپہ ) نے کہا کہ محدثین کے درمیان امام بخاری کے علمی مقام و مرتبہ کے ساتھ ساتھ و تقوی اور خشیت الہی کے لحاظ سے بھی ان کی ایک الگ شان ہے خشیت کے پہلو کو واضح کرتے ہوئے مولانا نے کہا کہ جب سے امام بخاری کو معلوم ہوا کہ غیبت کرنا گناہ ہے پوری زندگی انہوں نے کسی کی غیبت نہیں کی ، جس محدث کی عملی زندگی خشیت الہی سے اس قدر پر ظاہر ہے کہ انہوں نے جمع حدیث رسولﷺ کے وقت صحت حدیث کا کس قدر خیال فرمایا ہوگا واضح ہے اسی کا نتیجہ ہے کہ آج پوری دنیا میں بلاقید مسلک تمام علماء کرام بخاری شریف کو مستند مانتے ہیں ۔ فن حدیث کی عظمت و اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے مولانا محمد مصطفے عبدالقدوس ندوی ( مہتمم جامعۃ الصالحات کڑپہ ) نے کہا کہ حدیث رسول ﷺ وحی کی ایک قسم ہے جو وحی غیرمتلوکہلاتی ہے اور علوم اسلامیہ میں علم القرآن کے بعد علم حدیث کو بنیادی ماخذ کا درجہ حاصل ہے اسی وجہ سے محدثین کرام نے نہایت جانفشانی سے اس علم کو حاصل کیا اور حد درجہ حزم و احتیاط کے ساتھ اس کی تدوین و اشاعت کی ۔ مولانا نے فرمایا کہ حدیث کو قرآن سے الگ نہیں کیا جاسکتا اس لئے کہ قرآنی معانی و مطالب کو حدیث رسول ﷺ کی تشریح کے بغیر سمجھنا ناممکن ہے موجودہ زمانے کے فتنوں کا ذکر کرتے ہوئے مولانا نے کہا کہ اہل قرآن ایک فرقہ ہے جو خود کو مسلمان کہتے ہیں اور حدیث ﷺ کا انکار کرتے ہیں اور قرآن کی ہر آیت کی عقلی تشریح کرتے ہیں جو کہ سراسر ضلالت و گمراہی کا باعث ہے ۔ اخیر میں مہمان خصوصی مولانا ذاکر احمد رشادی ندوی نے بخاری شریف کا آغازکرتے ہوئے کہا کہ اللہ کے فضل سے امام بخاری نے اپنی قوت حافظہ اور محنت شاقہ کی بدولت نہایت کم وقت میں کتاب بخاری کی صورت میں فن حدیث پر جتنا بڑا کام کیا ہے امت مسلمہ پر ان کا احسان ہے اور ان کی نظیر ملنی مشکل ہے ، جامعہ کی طالبات سے حصول علم کی تلقین کرتے ہوئے کہاکہ یہ آپ کی خوش قسمتی ہے کہ اللہ کے فضل سے آپ کو دینی علوم سیکھنے کا موقع نصیب ہوا ہے ، اس لئے محنت و مشقت اور دلچسپی کے ساتھ علم دین حاصل کریں اور عمدہ اخلاق سے اپنے آپ کو آراستہ کریں تاکہ آج مسلم معاشرے میں جو برائیاں پھیل رہی ہیں ، رسم رواج ، بدعات و خرافات جنم لے رہی ہیں اسے ختم کرسکیں اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے پیغام کو عام کرسکیں ۔ افتتاحی کلمات مولانا اکبر علی رشادی نے ادا کئے اور مولانا عبدالہادی امام و خطیب جامع مسجد بدویل کی دعا پر جلسہ کا اختتام ہوا ، اس موقع پر جامعہ و سوسائٹی کے ذمہ داران و اساتذہ مولانا سرفراز عالم ندوی ، مولانا ولی الرحمن قاسمی ، سید احمد بابو ، خواجہ محی الدین ، غوث احمد بدویل ، و دیگر اساتذہ و معلمات جامعہ کے علاوہ طالبات کی ایک کثیر تعداد موجود تھی ۔