علم سے آشنا سماج ہی ملک کی ترقی کا ضامن

ناندیڑ میں جلسہ یوم اقلیت سے پرنسپل رفیق احمد کا خطاب
ناندیڑ / دیگلور /21 دسمبر (فیکس) مولانا آزاد اردو ہائی اسکول جونیر کالج میں جلسہ یوم اقلیت منایا گیا۔ اس جلسہ میں شیخ رفیق احمد نے حکومت ہند سے ملنے والی اسکیمات سے فائدہ اٹھانے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی آزادی کے بعد 6 دہائیوں کے بعد محسوس ہوا کہ مسلمانوں کی حالت ابتر ہوچکی ہے۔ سچر کمیٹی نے اعلان کیا کہ مسلمان دن بہ دن خراب حالات کا شکار ہو رہے ہیں۔ اسباب کی تلاش ڈھونڈتے ڈھونڈتے 65 سال لگ گئے، پھر بھی مسلمانوں کی حالت جوں کی توں ہے۔ اقلیتی طبقات میں سکھ، مسلمان اور دیگر طبقات کے لوگ معیشت کے علاوہ تعلیمی میدان میں بھی سب سے پیچھے ہیں۔ ان مسائل کو حل کرنے کے لئے حکومت ہند نے اقلیتی دن منانے کا پروگرام بنایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم اپنے اندر سیاسی و سماجی بیداری پیدا کریں اور طلبہ و طالبات تعلیم سے مزین ہوکر سماج و معاشرہ کا نام روشن کریں، کیونکہ موجودہ دور مسابقتی دور ہے۔ علم سے آشنا سماج، ملک کی ترقی کا ضامن ہوتا ہے۔ جناب عبد الرحیم قریشی مدرس نے طلبہ و طالبات سے کہا کہ وہ اپنے آپ کو اقلیتی دن پر احساس کمتری کا شکار نہ بنائیں، کیونکہ حکومت اکثریت کی ہوتی ہے نہ اقلیت کی۔ موصوف نے کہا کہ تعلیمی میدان میں ثابت قدم رہ کر ڈاکٹر اور انجینئر بنیں۔ انھوں نے کہا قوم مسلم حکمراں قوم ہے، ہمارے اسلاف نے 1200 سال حکومت کی ہے، ہم نے بہت سے نشیب و فراز دیکھے ہیں۔ انھوں نے طلبہ و طالبات سے کہا کہ دل چھوٹا نہ کریں، کیونکہ مؤمن کبھی اپنی زندگی میں ہار نہیں مانتا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہمت سے کام لیں، مسائل خود بخود حل ہو جائیں گے۔ ساحلہ یاسمین پٹھان نے کہا کہ موجودہ حکومتیں آج ہم کو دہشت گرد کہہ رہی ہیں، جب کہ ہم محب وطن ہیں، ہم کو حالات سے نہیں ڈرنا چاہئے۔ اقلیتی دن ہماری اقلیت کو ثابت کردے گا کہ ہمارے ساتھ ناانصافی ہونے کے بعد بھی ہم نے کبھی حکومت ہند سے آہ و زاری نہیں کی۔ انھوں نے کہا کہ ملک کی ترقی، اقلیتوں کی ترقی پر منحصر ہے۔ جناب مقبول احمد لکچرار نے کہا کہ موجودہ حکومت دور اندیشی سے کام لے رہی ہے، لہذا حالات بہتر دکھائی دے رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ واجپائی حکومت میں ہی ڈاکٹر عبد الکلام کو صدر جمہوریہ بنایا گیا تھا۔ انھوں نے طلبہ و طالبات کو اپنے ٹیالنٹ کا صحیح استعمال کرکے آگے بڑھنے کا مشورہ دیا۔ جناب اسعد اللہ ہاشمی لکچرار نے کہا کہ اقلیتی دن منانے کا پروگرام حکومت ہند نے دیر سے بنایا، تاہم اسے یاد تو آیا کہ مسلمانوں اور دیگر اقلیتی طبقات کے حالات ابتر سے ابتر ہو رہے ہیں۔