علم دین کی عظمت و سربلندی کو باقی رکھنے کی نصیحت

جامعہ رحمانی مونگیر میں جلسہ ختم بخاری شریف، مولانا محمد ولی رحمانی اور دیگر علماء کا خطاب

مونگیر۔/15جون( ذریعہ ای میل)یہ ایک یادگار موقعہ ہے، کہ آپ بخاری شریف سے سیدھا فائدہ اٹھارہے ہیں، اور حدیث کے درس میں شریک ہیں، اللہ تعالیٰ نے حضرت امام بخاری اور جامعہ رحمانی کے طفیل آپ کو یہ موقعہ دیا ہے،جو بڑی نعمت ہے، آپ سبھوں کو اس نعمت پرشکر گذار ہونا چاہئے، ان خیالات کااظہار مفکراسلام حضرت مولانا محمدولی رحمانی نے طلبہ کو بخاری شریف کی آخری حدیث کا درس دیتے ہوئے مجمع سے فرمایا۔ انہوںنے کہا کہ قرآن مجید کے بعد سب سے زیادہ صحیح کتاب بخاری شریف ہے،حضرت امام بخاری نے تقریباً چھ لاکھ حدیثوںمیںسے کم وبیش سات ہزار دو سوپچھتر حدیثوں کو مختلف عنوان کے تحت جمع کیا ہے، جن میں مکر ر حدیثیں بھی ہیں،ہر موقعہ پر انہوںنے حدیث سے نیااستدلال کیا ہے،یہ ان کی علمی لیاقت اور فنی مہارت ہے، ساتھ ہی ان کے انتخاب کے معیار کو واضح کرتا ہے، اس کتاب کی تصنیف وتالیف میںانہوں نے بڑا اہتمام کیا ، ہر حدیث کے لکھنے سے پہلے غسل کیا، کپڑے بدلے اور دو رکعت نماز پڑھی، یہ جذبہ احتساب وانابت کو بتاتا ہے۔یہ کتاب حسن ترتیب کاشاندار نمونہ ہے، اورتحقیق وتالیف کی دنیا میں اس کا بلندمقام ہے، انہوںنے کہا کہ کتاب کی حسن ترتیب کا نتیجہ ہے، کہ کتاب نیت والی حدیث سے شروع کی گئی، اور ذکر والی حدیث پہ ختم کی گئی، تاکہ عمل سے پہلے نیت ٹھیک ہوجائے، اور آخر میں انہوںنے ذکر کی تلقین حدیث کی زبانی کی ہے، یعنی ذکر ایمان والے کی بنیادی ضرورت ہے، کچھ ہاتھ نہیں آتا بے آہ سحرگاہی ، حضرت مولانا رحمانی نے کہا کہ قرآن اور حدیث دونوں کامجموعہ دین کی صحیح شکل وصورت کو واضح کرتاہے، حدیث کے بغیر دین کا تصور وکچھ ایسا ہے، جیسے شہنشاہ کونین صلی اللہ علیہ وسلم کے بغیرامت مسلمہ کے وجود کا تصور ، جس طرح کلمے کے دونوں جز توحیدو رسالت پر ایمان ضروری ہے، دین کی دونوں بنیادوں قرآن اور حدیث پر ایمان ضروری ہے، انہوںنے کہا کہ احادیث کا یہ اور دوسرے مجموعے مستند اور دین کی بنیاد ہیں، حدیثیں جس اہتمام سے لکھی گئیں ، اور جن لوگوں کے ذریعہ حدیث دنیا میں پھیلی،

ان میں سے ہر شخص کی سیرت اور سوانح محفوظ ہے، اور اس خدمت کے لیے ایک مستقل سبجیکٹ ’’اسماء الرجال‘‘ تیارہوا، جس فن میںسیکڑوںنہیں ہزاروں کتابیںہیں، اور شخصیتوںسے متعلق ایسی واضح معلومات کسی اور مذہب اور علمی خزانہ میں نہیں ہے۔ فارغ ہونے والے طلبہ کو حدیث پڑھانے کی اجازت دیتے ہوئے انہوں نے علم دین کی عظمت اور اس کی سربلندی کو باقی رکھنے کی نصیحت کی اور کہا کہ علم دین کی عظمت اور سربلندی کو بحال کرنے کے لیے حضرت امام بخاری کو شہر بدر ہونا پڑا، مگر انہوںنے علم دین کی عظمت پر گرد نہیں پڑنے دی، انہوں نے کہاکہ آج ملی تشخص کی بات کی جاتی ہے، یاد رکھئے، اس ملک میں ہمارا مذہب ،ہماری تہذیب اور ہمارا دینی تشخص اسی وقت محفوظ رہے گا، جب ہم ایک رہیں ،نیک رہیں، دین پر عمل کریں، دینی قدروں اور اخلاقی روایتوں کا احترم کریں، اور امت کے لیے اپنے ذاتی مفاد کو قربان کرکے آگے بڑھیں۔ اس موقعہ پر خطاب کرتے ہوئے جناب مولانا مفتی محمد عارف رحمانی استاذ جامعہ رحمانی مونگیرنے کہا کہ حدیث پڑھنے پڑھانے کی بڑی فضیلت ہے، اللہ تعالیٰ حدیث پڑھنے پڑھانے والے کو تازہ رکھتے ہیں،اس لیے بھی کہ انہیںسرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجنے کا موقعہ ملتا ہے،اس لیے حدیث کے خادموں کی دل سے قدر کرنی چاہئے، جناب مولانا محمد نعیم صاحب رحمانی استاذ جامعہ رحمانی مونگیر نے کہا کہ اللہ کے رسولؐ کی سنت کو زندہ کرنا بڑا کام ہے، آج سماج میں بدعات وخرافات کی کثرت ہے، رسول کی سنت پر عمل کم ہوگیا ہے، ہم غیروںکی پیروی کرنے لگے ہیں، ہمارے بہت سے کام رسول کے طریقے کے خلاف ہورہے ہیں، اس لیے ہم ہر جگہ ذلیل وخوار ہیں۔جناب مولانا عبد السبحان رحمانی استاذ جامعہ رحمانی نے کہا کہ دعا مؤمن کا بہترین ہتھیار ہے،

اللہ سے جب بندہ ہاتھ پھیلا کر عاجزی اور اخلاص سے مانگتا ہے، تو اللہ کو خالی ہاتھ لوٹاتے ہوئے شرم آتی ہے، ہم سبھوںکے لیے دعا قبول کرانے کا اس سے بڑا سنہرا موقعہ اور کیا ہوسکتا ہے،کہ ہم سب شعبان کے متبرک مہینے میں حدیث پڑھنے پڑھانے کی بابرکت مجلس میں موجود ہیں۔ جناب مولانا مفتی محمد اظہر مظاہری ناظم تعلیمات جامعہ رحمانی مونگیر نے بخاری شریف کی اہمیت ، امام بخاری کی خدمت اور ان کے بے مثل کارناموں پر روشنی ڈالی اور کہا کہ اللہ کافضل ہے، کہ جامعہ رحمانی مونگیر میں تقریباً پچاس سالوںسے بخاری شریف پڑھائی جارہی ہے، اور اسی کا نتیجہ ہے کہ حدیث کی مجلس میں بیٹھنے، حدیث پڑھنے اور علماء کی دینی باتوںکے سننے کا آپ سبھوں کو موقعہ مل جاتا ہے۔ہم سبھوںکے لیے یہ بڑی سعادت کی بات ہے۔اجلاس میں شہر مونگیر واطراف شہر کے ہزاروں فرزندان توحید نے شرکت کی ،بڑی تعداد میں خانقاہ رحمانی کے واردین وصادرین بھی موجود تھے، اجلاس کی نظامت جناب مولانا محمد خالد رحمانی استاذ جامعہ رحمانی مونگیر نے کی اوراپنے تمہیدی خطاب میں حدیث کی اہمیت اور حجیت پر روشنی ڈالی، اجلاس کا آغاز جناب قاری عبد القادر کی تلاوت اور جناب افضال رہبر کی نعت سے ہوا۔