کلبرگی۔17جون ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز مکتب دینیات مسجد آمنہ، حسین گارڈن، گلبرگہ کا سالانہ انعامی جلسہ منعقد ہوا۔ اس جلسہ میں مکتب کے طلباء نے ثقافتی پروگرام اور تعلیمی مظاہرہ بھی پیش کیا۔ فضیلت علم پر طالب علم محمد عبد اللہ ،ذکر اللہ کے فضائل پر محمد زکریا اور رمضان کی اہمیت پر محمد عارف کی تقریر بڑی دلچسپ وموثر رہی طلباء نے نعت وحمد اور مکالمات بھی پیش کئے۔ جلسہ میں موجود مہمان خصوصی حضرت مولانا غوث الدین قاسمی امام وخطیب مسجد ابوبکر غالب کالونی ونائب صدر جمعیت علماء گلبرگہ بھی حاضر تھے۔ مکتب کے ذمہ داران میں جناب محمد عبد السلام انجنئیر، جمشید احمد خان صاحب، سید یونس علی صاحب جناب مجیب صدیقی صاحب، جناب سید عبد الباری صاحب بھی حاضر تھے۔ دیگر علمائے کرام میں مفتی مشتاق قاسمی ومولانا محمد حارث مفتاحی مہتمم دار العلوم، گلبرگہ ہیراپور اور حافظ محمد یسین بھی شریک رہے۔ طلباء کے پروگرام کے بعد مولانا غوث الدین قاسمی صاحب کا بڑا پُر تاثیر خطاب ہوا۔ مولانا نے مکتب کے ذمہ داروں کو مبارک بادی دیتے ہوئے فرمایا کہ بچوں کی دینی تعلیم وتربیت کا انتظام یہ بہت بڑا کام ہے۔ دنیا میں مختلف کام مختلف افراد انجام دیتے ہیں مگر چھوٹے چھوٹے بچوں کی تعلیم وتربیت کا انتظام کرنا یہ انکو انسانیت سے آشنا کر کے انسان بنانے کا کام ہے۔ علم ہی جنت تک لے جاتا ہے۔
علم نور ہے روشنی ہے اور جہالت اندھیرا ہے جہالت جہنم تک پہونچاتی ہے۔ مولانا نے قرآن وحدیث کے حوالے سے علم کی نہایت دلنشین فضیلت بیان فرماتے ہوئے کہا کہ علم دو قسم کے ہیں (۱) علم نجات اور (۲) علم حساب قرآن کا حافظ یا تلاوت کرنے والا مرنے کے بعد بھی حافظ رہتا ہے۔ علم قبر میں کام دیتا ہے اور باقی سارے علوم علم حیات یعنی زندگی میں کام آنے والے علوم ہیں مرنے کے بعد یہاں کی ڈگریاں عہدے یہی رہ جائینگے ، لہذا بچوں کی تربیت کی طرف خاص توجہ رکھنا چاہئیے۔ پابندی سے مکتب بھیجنا چاہئیے تاکہ وہ اس علم نجات سے بھی آراستہ ہو۔ حافظ عبدالقادر صاحب مدرس مکتب دینیات ، حُسین گارڈن نے نظامت کے فرائض بحسن وخوبی انجام دئیے۔ اول دوم سوم نمبرات سے کامیاب طلباء کو مولانا غوث الدین قاسمی صاحب کے دست مبارک سے انعامات تقسیم کئے اور مولانا کی دُعا ء پر جلسہ کا اختتام ہوا۔مکتب دینیات میں آج سے سالانہ رمضان کی تعطیلات ہیں انشاء اللہ ۲۷ جولائی سے مکتب میں نیا تعلیمی سال کا آغاز ہوگا۔ رمضان میں مولانا غوث الدین قاسمی کی تقریر کا بھی خواتین کیلئے اہتمام کیا گیا۔ جلسہ کے انتظامات کیلئے استاتذہ اور مؤذن جانی میاں صاحب نے بڑی محنت کی۔