علم ایمان کا رہنما اور عبادت کی کلید

عصری علوم کا حصول ضروری، بیدر میں دینی اجتماع سے اقبال الدین انجینئر کا خطاب
بیدر۔11؍اپریل۔(سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)پڑھناہی علم کی کنجی ہے اور قلم علم کو نقل کرنے کا آلہ ہے ۔ اس لئے اسلام کے نزدیک علم ایمان کارہنماہے۔ عبادت کی کلید ہے۔ مشعلِ راہ ہے۔ علم امام اور عمل اس کا تابع ہے۔ جب تک نئی نسل طب، انجینئرنگ ، فزیالوجی ، کیمیا اور حیاتیاتی علوم حاصل نہیں کرتی امت ترقی یافتہ نہیں کہلوائی جاسکتی اورنہ اپنے دفاع کی صلاحیت حاصل کرسکتی ہے۔ بلکہ خود اپنی ذاتی ضروریات بھی پوری نہیں کرسکتی اور نہ اللہ کی معرفت حاصل ہوسکتی ہے۔ اسی لئے دنیاوی علم کاسیکھنا فرضِ کفایہ ہے اور نبی کریمؐ کا ارشاد ہے۔ انبیاء درہم ودینار وراثت میں چھوڑ کرنہیں جاتے بلکہ علم ورثے میں چھوڑ تے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار اقبال الدین انجینئر نے دینی تربیتی اجتماع مسجد تعلیم نور خاں بیدر سے کیا۔ انہوں نے مزید بتایاکہ عصری علم کے ساتھ ساتھ دین اسلام پرعبور حاصل ہونے کے لئے ہمیں تفسیر ، حدیث ، اصول فقہ ، اسلامی تاریخ ، علم عقائد ، علم کلام ، منطق ، اخلاقیات اور فلسفہ وغیرہ سب علوم پڑھتے رہناچاہیے۔ تب ہی ہم کامیاب زندگی گذارنے کے اہل ہوسکتے ہیں۔ اوراللہ کی رحمت کے مستحق بن سکتے ہیں ۔ انہوں نے حدیث کی صراحتوں سے واضح کیاکہ کسی بھی خطے یامعاشرے پر اللہ کی طرف سے جواجتماعی قہروعذاب کا نزول ہوتاہے وہ تین گناہوں سود خوری، زنا اور بدکاری اور زکوٰۃ کی ادائیگی میں مجرمانہ کوتاہی کی وجہ سے ہوتاہے۔ اسی لئے بے حیائی ، بدکاری ، سے بچتے ہوئے بغیرسودی لین دین کی زندگی شروع کرنے کی کوشش کرتے رہنا چاہیے۔ تب ہی ہمارے اندر امانت ودیانت ، صداقت وراستی اور خیرخواہی کے اوصاف پیدا ہوسکتے ہیں اور اللہ کی رحمت اورآفتوں سے بچنے کے مستحق ہوسکتے ہیں۔ اورہمیں ایمان کا ثبوت تقویٰ اختیار کرکے دینا چاہئیے۔ اپنے خطاب کے اختتام پر موصوف نے کہاکہ دنیا میں سب سے زیادہ بری چیزمنافقانہ زندگی ہے جس سے بچنے کے لئے لوگوں سے روابط اصول کی بنیاد پر رکھیں نہ کہ مفاد کے لئے، اورہمارے ذہنوں میں ہمیشہ یہ بات تازہ رہنی چاہئیے کہ اسلام کی قوت کااصل سرچشمہ اور ہماری زندگی کا مقصد امربالمعروف اور نہی عن المنکر ہے کیونکہ قرآن میں ارشاد باری ہے’دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جوانسانوں کی ہدایت واصلاح کے لئے میدان میں لایا گیاہے۔تم نیکی کاحکم دیتے ہو اور بدی سے روکتے ہو۔ اوراللہ پر ایمان رکھتے ہو‘‘اس لئے ڈرو دنیادی مواخذہ اور اللہ کی لعنت سے اور آخرت کی اس آگ سے جو دلوں تک جلاکر راکھ کردیتی ہے پھر بھی موت نہیں آتی جبکہ دنیا کی آگ میں جلنے سے دل تک آگ پہنچنے سے پہلے ہی موت واقع ہوجاتی ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں آخرت کی لافانی دنیا میں جنت الفردوس عطافرمائے۔ ہمارے تمام گناہ بخش دے اور ہماری مغفرت فرمائے اور ہم سے عفوودرگزر کا معاملہ اپنائے۔ شرکاء کی کثیرتعداد میں اتفاق سے ماہر تعلیم کرناٹک کا جناب محمداکرام الدین اور جناب آصف الدین موجودتھے۔ امان الدین کے شکریہ پر اجتما ع کا اختتام ہوا۔