رقمی لین دین قتل کا شاخسانہ ، قاتلوں کی نشاندہی ، پولیس مصروف تحقیقات
حیدرآباد ۔ /18 جولائی (سیاست نیوز) راجیندر نگر کے علاقے عطاپور میں پیش آئے واقعہ میں ایک نوجوان رات دیر گئے بہیمانہ طور پر قتل کردیا گیا ۔ قاتلوں نے مقتول کی آنکھوں میں مرچ پاؤڈر ڈالکر اس پر چاقوؤں سے حملہ کرکے برسرموقعہ ہلاک کردیا ۔ تفصیلات کے بموجب 33 سالہ خالد ملک ساکن بہادر پورہ واٹر پلانٹ کا مالک تھا اور وہ چار سال قبل برطانیہ میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد شہر لوٹا تھا ۔ کل رات دیر گئے بعض افراد نے خالد ملک پر علاقے عطاپور میں اس پر اچانک حملہ کردیا اور سر پر وزنی پتھر ڈالنے کے علاوہ خنجروں سے کئی ضربات لگائے جس کے نتیجہ میں وہ برسرموقعہ ہلاک ہوگیا ۔ اس قتل کے واقعہ کے بعد علاقہ عطاپور میں سنسنی پھیل گئی اور مصروف ترین سڑک پر یہ واقعہ پیش آنے کے سبب عوام نے پولیس کنٹرول روم کو اطلاع دی ۔ راجیندر نگر پولیس کی ٹیم موقعہ واردات پر پہونچ کر سراغ رسانی دستہ (کلوز ٹیم) کو طلب کرلیا ۔ پولیس عہدیداروں کی جانب سے موقعہ واردات کا معائنہ کرنے کے دوران وہاں سے بعض اشیاء کو ضبط کیا جس میں شراب کی خالی بوتلیں بھی شامل ہیں ۔ پولیس کی ابتدائی تحقیقات میں یہ معلوم ہوا ہے کہ مقتول کے جان پہچان کے لوگوں نے ہی اس کا قتل کیا ہوگا ۔ پولیس نے خالد ملک کے قتل کی تحقیقات میں شدت پیدا کرتے ہوئے آج شام اس بات کا پتہ لگایا کہ مقتول نے بہادرپورہ کے ساکن دستگیر اور کشن باغ 9 نمبر کے خواجہ کو 5 لاکھ روپئے دیئے تھے اور اس رقم کو واپس لوٹانے کے اصرار پر اس کا بہیمانہ قتل کردیا گیا ۔ انسپکٹر راجیندر نگر مسٹر سریش نے بتایا کہ قاتلوں کی نشاندہی کرلی گئی ہے اور انہیں گرفتار کرنے کیلئے پولیس کی خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں ۔ رات دیر گئے نوجوان کے قتل کے بعد عطاپور کے رہائشی علاقوں کے اپارٹمنٹ اور مکانات کے سکیورٹی گارڈس خوفزدہ ہوگئے اور بعض واچ مین وہاں سے فرار ہوگئے ۔ خالد ملک کے قتل کے بعد اس علاقے میں یہ بھی افواہیں گشت کرنے لگی تھی کہ بہار کے واچ مینس اور سکیورٹی گارڈس کو نشانہ بنایا جارہا ہے لیکن پولیس نے اس بات کو بے بنیاد اور غلط قرار دیا ہے ۔ راجیندر نگر پولیس نے قتل کا مقدمہ درج کرتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کیا ہے ۔