رپورتاژ۔ڈاکٹرمحمدعبدالعزیزسہیل
شعبہ اردوجامعہ عثمانیہ حیدرآباد کی جانب سے بروز جمعہ 8 اگسٹ 2014کو اردو ہال حمایت نگر میں ایک روزہ قومی سمینار’’ عصر حاضر کی اردو شاعری،رحجانات وامکانات‘‘کا میاب انعقاد عمل میں لایا گیا۔سمینار کی نظامت کیلئے جناب نذیر احمد صدر شعبہ اردو ویمنس کالج کوٹھی نے مائیک سنبھالہ اور سامعین کو ہال کے اندر تشریف لانے کی دعوت دی۔استقبالیہ وسمینار کے انعقاد کے مقصد اور مہمانوں کے تعارف کو پیش کرنے کی ذمہ داری محترمہ پروفیسر فاطمہ پروین کے حصہ میں آئی تھی۔ انہوں نے اپنے مخصوص لب ولہجہ میں جامعہ عثمانیہ کی تاریخ پر روشنی ڈالی اور مختلف موقعوں پر ہونے والے سمینارس کی تفصیلا ت سے سامعین کو واقف کرایا ساتھ ہی اس ایک روز ہ سمینار سے متعلق غرض وغایت کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح مولانا خواجہ الطاف حسین حالی ؔنے اپنے مجموعہ کلام سے پہلے مقدمہ شعر وشاعری رقم کیا تھا آج اسی طرز پر ڈاکٹر معید جاویدؔ نے اپنے شعری مجموعہ سے پہلے اردو شاعری کے عصری رحجانات و امکانات پر سمینار کا انعقاد عمل میں لاتے ہوئے عصر حاضر میں اردو شاعری کی اہمیت کو ثا بت کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔اس سمینار کے پہلے مقالہ نگار کی حیثیت سے ڈاکٹرسید فضل اللہ مکرم ‘چیر پرسن‘بورڈ آف اسٹڈیز‘اورینٹل لینگویجس‘ عثمانیہ یو نیورسٹی نے ’’عصر حاضر کا گوشہ نشین شاعر قطب سرشارؔ‘‘ کے موضوع پر اپنا مقالہ پیش کیا ۔اپنے مقالہ میں انہوں نے کہا کہ سائنس وٹکنالوجی کی ترقی نے انسان کی معلومات میں تو ضروراضافہ کیا ہے جس کی وجہ سے ہمیں دور دراز مقامات کے حالات سے آگہی تو رہتی ہے لیکن ہم اپنے قریب وجوار میں رہنے والے اہم شعراء و ادبا کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔عصر حاضر کی اردو شاعری میں قطب سرشار ؔایک اہم نام ہے۔
اس سمینار میں دوسرا مقالہ جناب روف خیرؔ نے ’’عصر حاضر کی اردو شاعری رحجانات و امکانات‘‘ کے موضوع پر پڑھا اور کہا کہ عصر حاضر میں کچھ ایسے نظم نگار بھی ہیں جو نظم اور بد نظمی میں تمیز نہیں کرتے۔انہوں نے کہا کہ لکھنوی مکتب فکر ذہن کو متاثر کرتا ہے اور دہلوی مکتب فکر دل کو متاثر کرتا ہے اور لکھنوی
طرز کو خوب پسند کیا جاتا ہے دہلوی مکتب فکر زبان وادب کے مروجہ اصولوں کو ملحوظ رکھتا ہے۔ انہوں اس مقال میں جدید اصناف سخن کا جائزہ لیا اور کہا کہ کچھ لوگوں نے یک مصرعی نظم کا شوشہ چھوڑا اور روف خیرؔ نے ایک مصری نظم کی بنیاد ڈالی۔اردو شاعری میں ایک مصری نظم کے امکانات کافی روشن ہیں۔
تیسرے مقالہ نگار ڈاکٹر محسن جلگانوی نے اپنا مقالہ’’عصر حاضر میںاردو شاعری کے رحجانات و امکانات‘‘ پر پڑھا اور کہا کہ عصری ادب کی تفہیم کیلئے عصری زندگی کے تقاضوں کو بھی پیش نظر رکھنا چاہئے۔نقادوں کے اختلافات قاری کو تذبذب میں مبتلا
کرتے ہیں۔انہوں ترقی پسند تحریک اور جدیدیت کے حوالے سے بات کو پیش کرنے کی کوشش کی جدیدیت پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ زندگی کو ایک مکمل اکائی کی طرح دیکھنے کا رحجان جدید ادب میں پایا جاتا ہے۔ ہر دور میں شاعری میں خارجی و داخلی رحجانات پائے جاتے ہیں انہوں نے 1857ء سے دور حاضر تک کی اردو شاعری کے رحجانات کا جائز ہ پیش کیا۔
اس سمینار میںچوتھا مقالہ جامعہ عثمانیہ کے سابق صدر شعبہ پروفیسر مجید بیدار نے’’عصری اردو شاعری رحجانات اور امکانات ‘‘پر مقالہ سنایا اور کہا کہ عصر ی رحجانات انفرادی اور اجتماعی ہوتے ہیں۔سیاسی پس منظر میں عصری رحجانات کو مرکزیت سے لا مرکزیت کی طرف لایا جارہا ہے ادب میں بھی یہ خصوصیت آرہی ہے۔اخلاق کی شکست و ریخت کا عنصر عصری رحجانات میں غالب ہے۔ انہوں نے غزل کے پس منظر میں گفتگو پیش کی۔انہوں نے کہا کہ دھوکہ دہی،فریبی اور استحصال کا جذبہ ادب میں پروان چڑھ رہا ہے۔پروفیسر صاحب نے رفیق جعفرؔ کی شاعری کے حوالے سے جدید رحجانات کو پیش کیا۔
اس سمینار کی صدارت کرناٹک سے تشریف لائے ہوئے مہمان پروفیسر م۔ن۔سعیدسابق صدر نشین کرناٹک اردو اکیڈیمی نے انجام دی اپنے صدارتی خطاب میں انہوں کہا کہ سمینار میںشرکت سے ہماری محدود معلو مات میں اضافہ ہوتا ہے اردو شاعری کے عصری رحجانات سے متعلق نئے زاویہ آ ج کے اس سمینار میں پیش کئے گئے اردو ادب میں تحریکیں ،میلانات اور رحجانات کی اہمیت ابتداء سے ہی رہی ہے۔بیسویں صدی میں ترتی پسند تحریک نے اردو شاعری کو متاثر کیا اور عصری موضوعات اردو شاعری میں در آئے۔ بعد کے دور میں جدیدیت کا غلبہ رہاجدیدیت پسندوں نے اردو شاعری میں نئی علامتوں اور جدید تراکیب کو استعما ل میں لایا اور نئے تجربات پیش کئے گئے۔عصر حاضر میں اردو شاعری کا دائرہ کار بہت وسیع ہے اور امکانات بھی ہے کہ عصر حاضر کے شعراء اپنی شاعری کے زریعہ زندگی کے مسائل کو پیش کرینگے اور عوام کو بیدار کرنے کیلئے شعری اصناف کو استعمال میں لائیں گے۔ سمینار کے اختتام کے فوری بعد ڈاکٹر معید جاوید صدر شعبہ اردو عثمانیہ یونیورسٹی کے شعری مجموعہ ’’ دل کہہ رہا ہے‘‘ کا رسم اجرائتقریب کا انعقاد عمل میں آیا۔اس تقریب کی نظامت پروفیسر تاتار خان نے انجام دی۔’’دل کہہ رہا ہے‘‘ کا اجراء بدست پروفیسر اشرف رفیع و عزت مآب جناب محمود علی صاحب ڈپٹی چیف منسٹر تلنگانہ کے ہاتھوں عمل میں آیا۔ اس موقع پرپروفیسر اشرف رفیع نے اپنے خطاب میںڈاکٹر معید جاویدکے ا س شعری مجموعہ کو میعاری و اغلاط سے پاک قرار دیا اور کہا اس مجموعہ کو ظاہری اور معنوی خوبیوںسے آراستہ کیا گیا ہے ۔جناب محمود علی ڈپٹی چیف منسٹرریاست تلنگانہ نے اس رسم اجراء تقریب کو مخاطب فرمایااور ڈاکٹر معید جاوید کے شعری مجموعہ کی اشاعت پر مباکباد پیش کی اور اردو کے فروغ کے اقداما ت پر روشنی ڈالی ۔پروفیسر ایس۔ اے۔ شکور ڈائرکٹر اردو اکیڈیمی آندھرا پردیش نے بطور مہمان اس تقریب میںشرکت کی اور ڈاکٹر معید جاوید کے فن ِشاعری و کلام پر اظہار خیال فرمایا اورڈاکٹر معید جاوید کی رفاقتوں کاتذکرہ کیا۔
پروفیسر۔ م۔ن ۔سعیدسابق صدر نشین کرناٹک اردو اکیڈ یمی،ڈاکٹر محسن جلگانویؔ،جناب روف خیر ؔنے شعری مجموعہ پر اپنے تاثرات پیش کئے۔ سید عبدالباسط شکیل ہدی بک ڈسٹربیوٹر نے اردو کتابوں کی فروخت اور مطالعہ کے فقدان پر تشویش کا اظہارکیا۔پروفیسر پرتاپ ریڈی رجسٹرار عثمانیہ
یونیورسٹی،پروفیسربی۔ ستیہ نارائنا،و دیگر معزز مہمانوں نے اس ادبی محفل کو اپنی شرکت سے رونق بخشی،اس پروگرام میں پروفیسر میمونہ مسعود،پروفیسر عطیہ سلطانہ،ڈاکٹر عتیق اقبال،ڈاکٹر اطہر سلطانہ ، ڈاکٹر جعفر جری،جناب ضیاء الدین نیئر ،ڈاکٹر سیادت علی،جناب سیلم فاروقی،علی مصری (جدہ)‘ڈاکٹر شیخ سلیم ،مصطفی علی سروری،ڈاکٹر عتیق اقبال،ڈاکٹر اے۔آر۔منظر کے علاوہ ادباء شعرء اکرام اء،ریسرچ اسکالرس، محبان اردو، طلباء و طالبات کی کثیر تعداد نے شرکت کی ۔