حیدرآباد /4 فروری ( سیاست نیوز ) شہر حیدرآباد میں ان دنوں دھوکہ دہی کیلئے جدید ٹکنالوجی کا استعمال کیا جارہا ہے ۔ تعجب تو یہ ہے کہ ٹکنالوجی کا استعمال اور اس سے استفادہ کرنے والے افراد ہی جعلسازوں کی سازش کا شکار ہو رہے ہیں ۔ چہروں کی بغیر شناخت کے اجنبی افراد جو نہ نسل اور ملک سے تعلق رکھتے ہیں ۔ تعلیم یافتہ طبقہ آسانی سے ان کی سازش کا شکار ہوکر اپنی محنت کی کمائی کو گنوارہا ہے ۔ نظروں کے سامنے خود اپنے ہاتھوں ہو رہی اپنی بربادی پر داد و فریاد کا بھی کوئی اثر نہیں ہوگا چونکہ خود پولیس کا کہنا ہے کہ منظم انداز میں چلائے جارہے اس آن لائین دھوکہ دہی کے ریاکٹوں پر قابو پانا بہت مشکل ہے ۔ پولیس یہ کہتے ہوئے اپنے آپ سے بری الذمہ ہے کہ خود عوام ہی کو چاہئے کہ وہ چوکس و چونکہ رہیں۔ اپنی اطلاعات کسی اجنبی کے حوالے نہ کریں ۔ چونکہ شکایت وصول کرنا اور اس کا پتہ چلانے میں پولیس کافی حد تک کامیاب ہو رہی ہے لیکن ریکوری ( رقم کو حاصل ) کرنے میں سوائے ناکامی کے اور کچھ بھی نہیں ۔
شہر حیدرآباد و سائبرآباد میں ان دنوں آن لائین دھوکہ دہی کے معاملات عروج پر ہیں ۔ جس میں پہلے کریڈیٹ کارڈ اور ڈبیٹ کارڈز کی دھوکہ دہی کو پیش کیا جارہا ہے ۔ جس کے خلاف سائبرآباد کے سائبر کرائم سے ماہانہ سینکڑوں شکایتیں وصول ہو رہی ہیں ۔ کریڈیٹ اور ڈیبیٹ کارڈز کی دھوکہ دہی میں ملوث ٹولیاں دہلی اور آس پاس کے علاوں نوئیڈا اور گرگاؤں سے تعلق رکھتی ہیں ۔ اس کے علاوہ بیرون شہری بھی ایسے آن لائین دھوکہ دہی کے معاملات میں ملوث پائے جاتے ہیں۔ اس ٹولی کے ارکان کس طرح سے شہری کا فون نمبر حاصل کرلیتے ہیں ۔ اکثر یہ لوگ کریڈیٹ کارڈ کی تفصیلات سے ہی سیل نمبر حاصل کرتے ہیں اور شہری تک فون کے ذریعہ رسائی حاصل کی جاتی ہے ۔ مارکیٹنگ اور سیلز ایگزیکیٹیو اور بنک کے ریپریزنٹیٹیو و دیگر ذرائع سے ان کا ڈاٹا حاصل ہوتا ہے ۔ جس کے بعد ان کی کارروائی شروع ہوتی ہے ۔ اگر کسی شہری کو اپنی جعلسازی کا شکار بنانا ہے تو پہلے خود کو کسی بھی بینک کا نمائندہ یا پھر آر بی آئی سے تعلق رکھنے والا ظاہر کرتے ہوئے فون کیا جاتا ہے ۔ جس کے بعد گراہک سے کہا جاتا ہے کہ بنک آپ کے کریڈیٹ پلان کو بدل رہا ہے اور اس میں خریداری کی حد میں اضافہ کیا جارہا ہے اور کریڈیٹ پلان اب زیادہ کیا جائے گا ۔جس کیلئے آپ کے کارڈ کو تھوڑی دیر کیلئے بلاک کردیا جائے گا ۔ جس کے بعد یہ لوگ کارڈ کا نمبر اور دیگر تمام تفصیلات حاصل کرلیتے ہیں ۔ اس خصوص میں انسپکٹرسائبر کرائم سائبرآباد محمد ریاض الدین نے بتایا کہ ہر کریڈیٹ کارڈ کسی نہ کسی بنک سے تعلق رکھتا ہے
اور ہر بینک کے جتنے گراہک ہیں انہیں پہلے کے چار ہندسے ایک جیسے رہتے ہیں ۔ مثلاً کسی قومیائے ہوئے بنک کے 10 ہزار گراہک ہوں تو ان کے کارڈز پر درج نمبرات میں شروع کے چار ہندسے ایک ہی ہوتے ہیں ۔ دھوکہ باز افراد پہلے فون پر چار ہندسوں کا ذکر کرتا ہے اور جیسے ہی وہ تمام نمبرات کی تفصیلات فراہم کرتا ہے ۔ فوری آن لائین خریداری یا پھر رقم ٹرانسفر کیلئے وہ کوشش شروع کرتا ہے ۔ ایک طرف فون پر تفصیلات حاصل کرتے ہوئے دوسری طرف ان کی کوششیں جاری رہتی ہے ۔ گراہک کو فون پر ترغیب دی جاتی ہے کہ کارڈ بلاک ہونے کے تھوڑی دیر بعد ایک نمبر سیل پر ایس ایم ایس کے ذریعہ آئے گا اور اس نمبر کی اطلاع دی جائے ۔ دھوکہ باز پھر تھوڑی دیر بعد فون کرتا ہے اور اس نمبر کی اطلاع گراہک کے ذریعہ حاصل کرتا ہے ۔ دراصل یہ پاس ورڈ ہوتا ہے ۔ جو آن لائین معاملات کیلئے ضروری اور صرف کارڈ ہولڈر ہی کو دیا جائے ۔ دھوکہ باز آسانی سے اس نمبر کو حاصل کرلیتا ہے ۔ نتیجہ تھوڑی دیر بعد گراہک کو ایس ایم ایس کے ذریعہ اطلاعات حاصل ہوتی رہتی ہے کہ اس کے بنک کھاتے میں اس کی مرضی و اطلاع کے بغیر رقم منتقل ہو رہی ہے ۔
ون ٹائم پاس ورڈ رہنے پر اس طرح کی دھوکہ دہی جاری ہے تو پھر دیگر نمبرات کا تو بہت ہی تشویشناک حال کردیا گیا ہے ۔ سب انسپکٹر محمد ریاض الدین کا کہنا ہے کہ کسی بھی کارڈ سے چھیڑ چھاڑ اور رقم منتقلی یا خرچ کیلئے صرف چار چیزیں درکار ہوتی ہیں ۔ کارڈ کا نمبر ، نام ، تاریخ پیدائش اور کارڈ کی آخری تاریخ جو گراہکوں کو جھانسے میں ڈالکر یہ لوگ بہ آسانی حاصل کر رہے ہیں اور کارڈ کی تفصیلات کیلئے یہ لوگ Skimmer اسکمر کا استعمال کرتے ہوئے جس میں ایک مرتبہ کارڈ کو گھمانے سے تمام تفصیلات بالخصوص نمبر اسکیمر میں درج ہوجاتا ہے ۔ جو اکثر ہوٹلوں اور آن لائین ٹائپنگ کے وقت کیا جاتا ہے ۔ سائبر کرام پولیس نے شہریوں کو اس بات کا مشورہ دیا کہ وہ اپنی تفصیلات کسی بھی اجنبی کو فراہم نہ کریں ۔ چونکہ کوئی بنک سے تعلق رکھنے والا شخص کھاتے کو بند کرنے کی اطلاع نہیں دیتا ۔ اگر کسی گراہک کو اپنا کھاتہ بند کروانا ہو یا پھر پتہ تبدیل کروانا ہوتو خود بینک سے رجوع ہونا پڑتا ہے ۔ اے ٹی ایم چیک بک و دیگر تفصیلات جیسے اسٹیشنری وغیرہ پولیس نے شہریوں کو احتیاط سے کام لینے کا مشورہ دیا ہے ۔