عزت و عفت کے ساتھ زندگی گزارنے کیلئے خوف خدا ضروری

بیدر میں دینی اجتماع برائے طالبات۔ ثانیہ فاطمہ، ھما زینب اور دیگر کا خطاب

بیدر /8 مارچ (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) لڑکیوں کا ہتھیار شرم و حیاء ہے، جس میں حیاء نہیں اس کا کوئی ایمان نہیں۔ عصری تعلیم کا حصول بامقصد اور خدمت خلق کے لئے ہو تب ہی دنیاوی و اخروی کامیابی حاصل ہوسکتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار صدف ماحین میڈیکل کالج کی طالبہ نے دینی و تربیتی اجتماع برائے طالبات ’’کاشانہ بیاد طارق عثمانی بابا‘‘ قادریہ گراؤنڈ بیدر میں کیا۔ ہما زینب طالبہ وزڈم کالج نے اپنی تقریر میں کہا کہ علم حاصل کرنے کا مقصد یہ ہونا چاہئے کہ ہم ایک اچھی بیٹی، بہن، بیوی اور ماں کی ذمہ داریوں کو خوش اسلوبی سے نبھانے کے اہل بنیں، ورنہ خاندانوں کا شیرازہ بکھرنے کا خطرہ رہتا ہے۔ ثانیہ فاطمہ طالبہ حفظ القرآن شاہین کالج بیدر نے کہا کہ کامیاب زندگی کے لئے ضروری ہے کہ ہم ہردم اللہ کا قرب اور اس کی سعادت حاصل کرنے کی فکر کرتے ہوئے اپنے روزمرہ کے کام انجام دیں۔ انھوں نے کہا کہ عزت و عفت کی زندگی گزارنے کے لئے خوف خدا ضروری ہے۔ اگر خدا کا خوف نہیں ہے تو مرد یا عورت جس طرح کی زندگی چاہیں بسر کرسکتے ہیں، لیکن وہ زندگی عبرتناک ہوگی۔ فریسہ نشاط طالبہ اکا مہادیوی کالج نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج مخلوط تعلیم حاصل کرنا اور ملے جلے مخلوط معاشرہ میں روزگار کے لئے اپنی خدمات صرف کرنا وقت کی ضرورت بن گیا ہے، ان حالات میں تقویٰ پر قائم رہنے کے لئے ہمیں دینی معلومات حاصل کرنا اپنے روزمرہ کا معمول بناکر اللہ سے نفع دینے والا علم اور عافیت و رحمت کی دعائیں کرتے رہنا چاہئے۔ صدر جلسہ ماہر تعلیم جناب محمد اکرام الدین نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ اعلی تعلیم حاصل کرنے کی جستجو لڑکیوں میں بڑھی ہے۔ یہ بچیاں مستقبل کے صاف ستھرے اور برائیوں و نفرتوں سے پاک معاشرہ کی بنیاد بنیں گی اور اپنے جملہ معاملات زندگی میں خدا و رسول کی اطاعت کا پٹہ اپنی گردن میں ڈالے رہیں گی، کیونکہ سورہ نساء میں فرمان الہی ہے کہ ’’جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جو رو گردانی کرے تو (اے نبی) ہم نے آپ کو ان پر نگراں بناکے نہیں بھیجا ہے‘‘۔ یہی وہ ذریعہ ہے جس سے ہم اللہ کی رحمت کے مستحق بن سکتے ہیں۔ انجم عذرا طالبہ الامین کالج بیدر نے نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے اظہار تشکر کے طورپر کہا کہ ہم عصری و دینی تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اردو کی بقاء و ترقی کے لئے بھی کوشاں ہیں۔ کرناٹک میں الامین ادارہ جات نے اردو ذریعہ تعلیم کا جو جال بچھایا ہے، اس کو ہماری ریاست کی بھی مدد حاصل ہے، لہذا محبان اردو کو چاہئے کہ اس سے استفادہ کرکے ریاست کا نام روشن کریں۔ محترمہ نسرین بیگم کی دعا پر جلسہ کا اختتام عمل میں آیا۔