دوہوک (عراق) ۔ 18 مئی (سیاست ڈاٹ کام) عراق کے صوبہ عنبر کے گورنر کیترجمان کے مطابق گذشتہ کچھ دنوں کے دوران گھمسان کی لڑائی میں تقریباً 500 افراد جن میں عراقی شہری اور فوجی بھی شامل ہیں، کی ہلاکت کے بعد رمضی شہر پر دولت اسلامیہ کا قبضہ ہوگیا ہے، جس سے یہ اندازہ ہونے میں کوئی مشکل پیش نہیں آ سکتی کہ دولت اسلامیہ نے عراقی افواج کو شرمناک شکست سے دوچار کرتے ہوئے عنبرصوبہ پر قبضہ کرلیا ہے اور اس طرح امریکی قیادت والے فضائی حملوں کے تعاون کے باوجود عراقی افواج کو وہاں سے نکل بھاگنے پر مجبور ہونا پڑا۔ شہر کی سڑکوں پر نعشیں بکھری ہوئی دیکھی جارہی ہیں۔ ویڈیو کلپنگس کے ذریعہ جو مناظر دکھائے جارہے ہیں، ان میں فوجی ٹرکوں کو وہاں سے تیزی کے ساتھ نکلتے ہوئے دکھایا گیا ہے جن میں فوجیوں کی قابل لحاظ تعداد سوار ہے، جن کی ’’جسمانی زبان‘‘ سے یہ بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہیکہ وہ خود بھی جلد سے جلد وہاں سے نکلنے کیلئے بے چین ہیں۔ ترجمان محمد حیمور نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اب تک ہلاکتوں کی صحیح تعداد کا علم نہیں ہوا ہے تاہم ایک اندازے کے مطابق 500 افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں فوجی اور شہری دونوں شامل ہیں اور یہ اعداد و شمار صرف گذشتہ تین دنوں کے ہیں۔ جب جنگ نے شدت اختیار کرلی تھی۔ 8000 افراد ماہ اپریل میں ہی یہاں سے نکل گئے تھے۔ تاہم یہ اعداد و شمار اس کے علاوہ ہیں جو اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق 114,000 افراد کے رمضی اور دیگر اطراف و اکناف کے مواضعات سے عوام کے تخلیہ کے بارے میں پیش کئے گئے تھے۔ دریں اثناء مقامی عہدیداروں نے بتایا کہ دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں نے عراقی سیکوریٹی فورسیس اور شہریوں کا قتل عام کیا۔ شکست کا انداز ہوتے ہی وزیراعظم حیدرالعبادی نے سیکوریٹی فورسیس کو حکم دیا ہیکہ صوبہ عنبر میں وہ اپنی فوجی چوکیوں کو چھوڑ کر نہ جائیں کیونکہ اس سے یہ خدشہ پیدا ہوسکتا ہیکہ دولت اسلامیہ کہیں پورے صحرائی علاقہ پر بھی قابض نہ ہوجائیں، جہاں 2003ء میں اس وقت کے ڈکٹیٹر صدام حسین کو معزول کرنے کیلئے امریکہ سے فوج کشی کی تھی اور صحرائی علاقے جنگ کے میدان میں تبدیل ہوگئے تھے۔