بغداد۔17اگست ( سیاست ڈاٹ کام)امریکی جنگی طیاروں کی پشت پناہی میں کُرد فوج نے جہادیوں کے زیرقبضہ عراق کے سب سے بڑے ڈیم پر کنٹرول حاصل کرلیا ہے ۔ دولت اسلامیہ کے زیرقبضہ اس ڈیم پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کی اس لڑائی میں قبائیلیوں اور سکیورٹی فورسیس نے سرگرم حصہ لیا ۔ بغداد کے مغربی علاقوں میں عسکریت پسندوں اور سیکیورٹی فورسیس کے درمیان جھڑپیں جارہی ہیں ۔ دوماہ سے جاری تشدد میں عراق کی صورتحال کو ابتر بنادیا ہے ۔ عالمی طاقتوں نے وزیر اعظم نوری المالکی کے استعفیٰ کے بعد راحت محسوس کی ہے ۔
مغربی ممالک نے عراق کو امداد فراہم کی ہے اور اپنے گھروں کو چھوڑ کر فرار ہونے والے سینکڑوں ہزاروں افراد کو راحت پہنچانے کے اقدامات کئے گئے ہیں ۔عراق کے شمال میں واقع دریائے دجلا کے کنارے ڈیم پر قبضہ کرنے والے دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کو پیچھے ڈھکیل کر کُردش فوج آگے بڑھ رہی ہے ۔ کُردش جنگجوؤں کی جانب سے ہونے والی یہ پیشرفت سب سے بڑی کامیابی سمجھی جارہی ہے ۔ اخباری نمائندوں نے دیکھا کہ ڈیم کے علاقہ سے دھواں اُٹھ رہا ہے ۔ موصل ڈیم علاقہ کے نصف حصہ کو دوبارہ حاصل کرلیا گیا ہے ۔ خودمختار کُردش علاقہ کی سب سے بڑی پارٹی کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ ان کی فوج اب تلکیف کی سمت پیشرفت کررہی ہے لیکن لب سڑک بچھائے گئے بموں سے بچنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔