عراق کا صوبہ انبار میں دولت اسلامیہ کیخلاف پیش قدمی کا دعویٰ

بغداد۔ 21 نومبر۔ ( سیاست ڈاٹ کام)عراق نے کہا ہے کہ دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کے خلاف کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں جبکہ عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے بغداد میں ترکی کے وزیراعظم احمد داؤد اوغلو کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ حکومت نے فوجی طور پر ’’دوبارہ پیش قدمی‘‘ کی ہے۔ عراقی ٹی وی کے مطابق سرکاری سکیورٹی فورسز نے صوبۂ انبار کے دارالحکومت رمادی کے قریب واقع کئی دیہاتوں پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے اور وہ ہیت کے قصبے کا قبضہ دوبارہ واپس لینے کی کوشش کررہی ہیں جس پر گزشتہ ماہ ’’دولت اسلامیہ‘‘ کے جنگجوؤں نے قبضہ کر لیا تھا۔ عسکریت پسندوں نے ہیت کے گرد و نواح میں رہنے والے البونمر قبیلے سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں افراد کو ہلاک کر دیا جنہوں نے ہتھیار ڈال دیئے تھے۔ ان ہلاکتوں کو تصویروں اور عام لوگوں کی طرف سے بنائی گئی ویڈیو میں بھی دکھایا گیا تھا۔ یہ علاقے کے سنی قبیلوں کیلئے بھی بہت صدمہ کی بات تھی جس کی وجہ سے کئی گوشے ’دولت اسلامیہ‘ کے خلاف ہو گئے۔ترک وزیر اعظم اوغلو کے دورۂ بغداد کے دوران میزبان وزیر اعظم نے میڈیا کو بتایا کہ سرکاری فوجیں کارروائی کرنے میں پہل کر رہی ہیں۔ عبادی نے کہا کہ حال ہی میں بغداد کو دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کی طرف سے خطرہ تھا لیکن اب جنگ دور دراز کے علاقے میں منتقل کر دی گئی ہے جبکہ سرکاری فوجوں نے بغداد کی طرف آنے والی شاہراہ پر واقع بیجی قصبے اور اس کی تیل صاف کرنے والی تنصیب پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ سرکاری فوجیں انبار اور دیالہ، صلاح الدین اور نینوا کے صوبوں کے علاقوں پر دوبارہ قبضہ کرنے کے قریب ہیں۔ عبادی نے ترک لیڈر کی اسلامک اسٹیٹ کے گروہ کے خلاف لڑائی میں عراقی حکومت کی مدد کرنے کی پیشکش کا شکریہ ادا کیا۔ ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق اتحادیوں کی ایک فضائی کارروائی میں رضوان ہمدان ہلاک ہو گئے ہیں جو مبینہ طور پر دولت اسلامیہ کے ’وزیر جنگ ‘ ہیں۔