باقوبہ۔ 12؍اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام)۔ تین خودکش کار بم دھماکوں میں کرد زیر قبضہ عراقی قصبہ میں سرکاری دفاتر کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا تھا جن سے کم از کم 25 افراد ہلاک ہوگئے جن میں سے بیشتر کرد فوج کے پرانے رضاکار فوجی تھے جنھیں دوبارہ فوج میں تقرر کے لئے طلب کیا گیا تھا۔ 10.30 بجے دن تین کار بم دھماکوں سے قراتاپاہ دہل گیا۔ میئر وہاب احمد نے جو حملہ میں معمولی سے زخمی ہوئے، کہا کہ حکومت حامی فوج اور دولت اسلامیہ کے جہادیوں کے درمیان یہ ایک اہم میدانِ جنگ ہے۔ تین کار بم دھماکوں میں ان کے دفتر کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ یہ عمارت کرد آسائش انٹرنیٹ صیانتی خدمت کے زیر استعمال بھی ہے اور یہاں کردستان پارٹی کی محب وطن یونین بھی قائم ہے۔ قریبی عمارتیں محکمہ برقی توانائی اور کرد پیش مرگا فوج کے زیر استعمال ہے۔ بغداد سے موصولہ اطلاع کے بموجب ایک لب سڑک بم دھماکہ سے عراق کے سربراہ پولیس برائے صوبۂ عنبر ہلاک کردئے گئے۔ امریکہ کے محکمہ دفاع نے اس علاقہ میں جہادیوں کی تازہ جارحیت پر فکرمندی ظاہر کی ہے۔