بغداد 6 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) دو خودکش دھماکوں سے عراق کے صوبہ عنبر میں جو بغداد کے مغرب میں واقع ہے، کم از کم 23 افراد جو صیانتی ارکان عملہ تھے، ہلاک ہوگئے۔ خودکش بم برداروں نے صوبہ عنبر کے علاقہ الجبا میں بم دھماکے کئے تھے جہاں مخالف جہادی جنگجو آرام کررہے تھے۔ اس کی وجہ سے 10 افراد ہلاک ہوگئے۔ اِس کے بعد جھڑپوں کا آغاز ہوا جس میں 13 فوجی ہلاک اور 31 زخمی ہوگئے۔ الجبا الاسعد فوجی فضائی اڈہ کے قریب واقع تھے جہاں امریکی فوجی ارکان عملہ تعینات ہیں اور قصبہ بغدادی واقع ہے۔ یہ ایسا علاقہ ہے جہاں فوج اور دولت اسلامیہ کے جہادیوں میں گھمسان کی جنگیں ہوتی رہی ہیں۔ فوری طور پر حملہ کی ذمہ داری کسی نے بھی قبول نہیں کی لیکن خودکش بم دھماکے ایک ایسی حکمت عملی ہیں جو عراق میں سنی انتہا پسند بشمول دولت اسلامیہ کے جہادی استمال کرتے ہیں۔ دولت اسلامیہ نے جون میں بڑے پیمانے پر حملے کئے تھے
اور بغداد کے شمال اور مغرب میں وسیع علاقوں پر قبضہ کرلیا تھا جن میں صوبہ عنبر کے نمایاں حصے بھی شامل تھے۔ قبائیلی جنگجوؤں نے جہادیوں کو مزید علاقوں پر صوبہ عنبر میں قبضہ کرنے سے روکنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ عراقی فوج اور الاسعد پر قبائیلی جنگجوؤں کو تربیت دے رہی ہے۔ ایک اجلاس میں جو کل منعقد کیا گیا تھا، صہیب الراوی نے جو نئے منتخبہ گورنر صوبہ عنبر ہیں، وزیراعظم حیدر الابادی نے دولت اسلامیہ کے خلاف ’’قبائیلی انقلاب‘‘ کی اپیل کی ہے۔ وزیراعظم کے دفتر سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اِن قائدین نے زور دے کر کہا ہے کہ قبائیلیوں کی اہمیت مسلمہ ہے اور اِس صوبہ کے سپوت دہشت گرد تنظیم سے آزاد کروانے میں نمایاں کردار ادا کررہے ہیں۔ مبینہ طور پر کرد قبائیلی بھی دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کے خلاف برسرپیکار ہیں۔