بغداد ۔ 20 اکٹوبر ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) عراق کے سرکردہ شیعہ عالم نے آج نئی حکومت کیلئے اپنی تائید کا اظہار کیا ، جو اسلامک اسٹیٹ گروپ سے لڑ رہی ہے ، جبکہ عسکریت پسندوں نے ملک کی اکثریتی برادری پر مہلک حملوں کی لہر چھیڑتے ہوئے 43 افراد ہلاک کردیئے ہیں۔ عسکریت پسندوں کی جانب سے جاریہ موسم گرما کی جارحانہ مہم میں عراق کو ختم 2011 ء پر امریکی دستوں کی روانگی کے بعد سے اپنے بدترین بحران سے دوچار کردیا ہے ۔ جہاں آج کے حملوں کیلئے کسی نے بھی ذمہ داری قبول نہیں کی لیکن عین ممکن ہے کہ یہ اسی گروپ نے کرائے تاکہ عراقیوں میں خوف کا ماحول پیدا کرتے ہوئے بغداد کی نئی شیعہ زیرقیادت حکومت پر دباؤ برقرار رکھا جاسکے ۔ وزیراعظم حیدر العبادی جنھوں نے گزشتہ ماہ عہدہ سنبھالا ، انھوں نے آج اعلیٰ شیعہ عالم آیت اﷲ علی السیستانی سے جنوبی شہر نجف میں ملاقات کی ۔ انھوں نے اپنی بات چیت کے بعد کہا کہ السیستانی نے نئی حکومت کا خیرمقدم کیا ہے جس کی اب العبادی قیادت کررہے ہیں ۔ روحانی رہنما کا عراق کی اکثریتی برادری میں کافی اثر رسوخ ہے اور اس ملاقات کی علامتی اہمیت ضرور ہے کیوں کہ السیستانی نے حالیہ برسوں میں سیاست دانوں پر تنقید کرتے ہوئے اپنا احتجاج درج کرایا تھا کہ وہ ملک پر حکمرانی میں غلطیاں کررہے ہیں۔ ’’ہمارے آگے طویل اور سخت مشن ہے ‘‘ العبادی نے 86 سالہ السیستانی سے ملاقات کے بعد اخباری نمائندوں سے یہ بات کہی ۔ انھوں نے کہاکہ اس مشن میں ایک پہلو سکیورٹی سے متعلق ہے ۔ ہمیں اسلحہ درکار ہے اور ہمیں ہمارے سکیورٹی فورسیس کو ازسرنو تیار کرنے کی ضرورت ہے ۔ دارالحکومت میں ایک بمبار نے خود کو دھماکے سے اُڑاتے ہوئے وسطی تجارتی علاقہ کی مسجد سے نکلنے والے مصلیوں کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں کم از کم 17 افراد ہلاک اور 28 دیگر زخمی ہوگئے ۔