عراق میں جہادیوں کیخلاف فورسیس کی زمینی کارروائی

داعش کے کنٹرول کی برخاستگی کی مہم میں اتحادی فورسیس کی مدد، امریکہ کا تیقن
عمان ۔ 9 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) جہادیوں کے خلاف بین الاقوامی اتحاد کے امریکی رابطہ کار نے کہا ہیکہ اسلامک اسٹیٹ گروپ (داعش) کے زیرقبضہ عراقی علاقوں کو واپس لینے کیلئے آئندہ چند ہفتوں میں عراقی فورسیس بڑے پیمانے پر زمینی کارروائی شروع کریں گے۔ امریکہ کے سرکردہ ایلچی جان ایلن نے گذشتہ روز اردن کے سرکاری خبر رساں ادارہ پٹرا کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ عراق میں بڑے پیمانے پر فرضی جوابی حملے ہوں گے۔ انہوں نے زور دیکر کہا کہ عراقی سپاہی ان زمینی حملوں کی قیادت کریںگے۔ جان ایلن نے تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’’آئندہ چند ہفتوں کے دوران عراقی فورسیس عراقی علاقے واپس لینے کیلئے بڑے پیمانے پر زمینی کارروائی شروع کریں گے۔ اتحادی فورسیس اس ضمن میں درکار تمام ضروری مدد فراہم کریں گے‘‘۔ انہوں نے داعش کے خلاف مہم میں عراقی فورسیس کو مؤثر تربیت اور درکار اسلحہ کی عدم فراہمی کے بارے میں امریکہ پر عائد کئے جانے والے الزام کو مسترد کردیا اور کہا کہ امریکہ بعجلت ممکنہ درکار مدد فراہم کرنے کیلئے ضروری تمام اقدامات کررہا ہے۔ داعش نے عراق اور شام کے ایک بڑے حصہ پر قبضہ کرلیا ہے جہاں سے ان جہادیوں کو مار بھگانے کیلئے امریکہ فضائی حملوں کی مہم کی قیادت کررہا ہے۔ داعش پر ان علاقوں میں اسلام کی مسخ شدہ شکل مسلط کرنے کا الزام عائد کیا جارہا ہے۔ اردن نے اپنے ایرفورسس کے ایک پائلٹ کو داعش کی جانب سے بربریت انگیز انداز میں زندہ جلائے جانے کے بعد اس منظر پر مبنی ویڈیو کی اجرائی کے بعد داعش کے کئی خفیہ ٹھکانوں پر فضائی حملے کئے ہیں۔ اردن جو داعش کے خلاف اتحاد کا حلیف ہے گذشتہ روز اعلان کیا کہ داعش کے ٹھکانوں پر زبردست بمباری کی گئی ہے۔ امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے کہا کہ عراق اور شامی علاقوں کو داعش کے قبضہ سے واپس لینے اور جہادیوں کو فنڈز سے محروم رکھنے کیلئے بڑے پیمانے پر مہم شروع کی جارہی ہے۔ جان کیری نے گذشتہ روز میونخ سیکوریٹی کانفرنس میں کہا تھا کہ اگست میں اتحاد کے قیام کے بعد داعش کے ٹھکانوں پر تاحال 2000 فضائی حملے کئے جاچکے ہیں۔