بعقوبہ ( عراق ) 22 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) عراق کے صوبہ دیالہ میں شیعہ عسکریت پسندوں نے ایک سنی مسجد پر حملہ کرتے ہوئے 70 مصلیوں کو نشانہ بنایا اور یہ سب جاں بحق ہوگئے ۔ اس طرح عراق میں عسکری گروپ آئی ایس آئی ایس کے کنٹرول میں جانے والے علاقوں پر دوبارہ قبضہ بحال کرنے حکومت کی کوششوں کو دھکہ لگا ہے ۔ کہا گیا ہے کہ یہ واقعہ دیالہ صوبہ کے ہمرین علاقہ میں پیش آیا اور اس کے نتیجہ میں عراق کے سنی عرب حلقوں میں ناراضگی و برہمی میں اضافہ ہوسکتی ہے ۔ کہا گیا ہے کہ حکومت آئی ایس آئی ایس کے خلاف ان سنی گروپس کی تائید حاصل کرنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن اب اسے مشکلات پیش آسکتی ہیں۔
حکومت کی جانب سے آئی ایس آئی ایس کے کنٹرول میں جانے والے علاقوں پر اپنا قبضہ بحال کرنے کوششیں کی جا رہی ہیں ۔ فوج اور پولیس عہدیداروں نے کہا کہ اس علاقہ میں جھڑپوں میں نقصان اٹھانے کے بعد شیعہ عسکریت پسندوں نے مصعب بن عمیر مسجد پر حملہ کردیا تھا ۔ دیگر ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک قریبی مقام پر ہوئے لب سڑک بم دھماکہ کے بعد یہ کارروائی کی گئی ہے ۔ کہا گیا ہے کہ حملہ آور مسجد میں گھس کر مصلیوں پر مشین گنوں سے فائرنگ کرتے گئے اور اس کے نتیجہ میں 70 مصلی شہید ہوگئے جبکہ 20 زخمی ہوئے ہیں۔ ڈاکٹرس اور عہدیداروں نے یہ تعدا بتائی ہے ۔ عراق کی حکومت نے آئی ایس آئی ایس کے خطرہ سے نمٹنے کیلئے ان گروپس کی خدمات حاصل کی تھیں ۔ اس دوران صوبہ دیالہ میں کرد اور وفاقی سکیوریٹی فورسیس کی جانب سے جلولہ علاقہ میں اپنے کھوئے ہوئے علاقوں پر کنٹرول بحال کرنے کیلئے کوششیں شروع کردی گئی ہیں ۔ آئی ایس آئی ایس عسکریت پسندوں نے 11 اگسٹ کو اس علقاہ پر قبضہ کرلیا تھا ۔ وفاقی عراقی افواج کی مدد کیلئے امریکی طیاروں سے بمباری بھی کی جا رہی ہے ۔ کہا گیا ہے کہ جلولہ کے جنوب میں سعدیہ علاقہ میں عسکریت پسندوں سے وفاقی افواج کا تصادم بھی ہوا ہے ۔