بغداد۔7 فبروری( سیاست ڈاٹ کام ) عراق کے دارالحکومت میں طویل عرصہ سے نافذ کرفیو کی آج برخاستگی سے قبل سلسلہ وار بم دھماکوں کے نتیجہ میں زائد از تین درجن افراد ہلاک اور 86 دیگر افراد زخمی ہوگئے ۔ شہر کے جدید بغداد علاقہ میں انتہائی ہلاکت خیز دھماکہ ہوا جس میں ایک خودکش بمبار نے ہارڈ ویر کی دکانات پر مشتمل علاقہ کو نشانہ بنایا جس کے نتیجہ میں کم سے کم 22 افراد ہلاک اور دیگر 45 زخمی ہوگئے ۔ اس دھماکہ کے تھوڑی ہی دیر بعد وسطی بازار کے شورجہ مارکٹ میں دوسرا دھماکہ ہوا۔ پولیس نے کہا کہ ایک دوسرے سے 25میٹر کے فاصلہ پر دو دھماکے ہوئے جس میں مزید 11افراد ہلاک اور دیگر 26زخمی ہوگئے۔ نیز جنوب مغربی بغداد کے شیعہ بلاک کی ابوچیر مارکیٹ میں بھی کم از کم چار افراد ہلاک اور 15 دیگر زخمی ہوگئے جب ایک آؤٹ ڈور فوڈ مارکیٹ کے باہر نصب بم سے دھماکہ کیا گیا۔ تاہم ابھی تک کسی بھی گروپ نے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے ۔ دواخانہ کے ذمہ داروں کے مطابق مہلوکین اور زخمیوں کی تعداد درست ہے۔ تمام عہدیداروں نے شناخت مخفی رکھنے کی شرط پر بات کی کیونکہ وہ میڈیا کو بریفنگ دینے کے مجاز نہیں ہیں۔ یہ واقعات وزیراعظم حیدر العبادی کے کل نصف شب عراق کی طویل المیعاد کرفیو برخاست کردینے کے فیصلے سے عین قبل پیش آئے ہیں۔