ایران پر امریکہ کی تجارتی تحدیدات کی بناء پر عالمی تیل کے بازار میں بحران ‘توازن برقرار رکھنے عراق اور سعودی کی کوشش
بغداد، 11 نومبر (سیاست ڈاٹ کام ) عراق اور سعودی عرب بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کو مستحکم کرنے کے لئے متحد ہوکر کام کرنے پر رضامندی کا اظہارکیا ہے ۔عراق کے تیل کی وزارت کے ترجمان عاصم جہاد نے اس بات کی اطلاع دی. انہوں نے اس سلسلہ میں تفصیلی معلومات دینے سے انکار کر دیا۔بغداد میں ہفتہ کو ہونے والی میٹنگ میں دونوں ممالک کے تیل وزراء کے درمیان اس اس معاملہ پر رضامندی کا اظہار کیا گیا. دونوں کے درمیان عراق کی توانائی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے پاور گرڈ کنکشن کو لے ے کر بھی بات چیت ہوئی۔سعودی عرب کے تیل کے وزیر خالد الفلیح نے عراقی وزیر اعظم عادل عبدالمہدی سے بھی لاقات کی۔تیل برآمدکنندہ ممالک کے گروپ ( اوپیک) میں عراق سعودی عرب کے بعد سب سے زیادہ خام تیل پیدا کرنے والا ملک ہے ۔ عراق یومیہ 46 ملین بیرل خام تیل کی پیداوار کرتا ہے ۔اسی درمیان، امریکہ نے عراق کو 45 دنوں کے لئے ایران سے قدرتی گیس اور تیل درآمد کرنے کی چھوٹ دے دی ہے ۔ عراق میں امریکی سفارت خانہ نے اس بات کی اطلاع دی۔امریکہ کے ایران جوہری معاہدے سے الگ ہونے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کافی تلخ ہوئے ہیں جس کے بعد ہی بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ آیا ہے . مئی میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے امریکہ کے اس بین الاقوامی جوہری معاہدے سے الگ ہونے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد امریکہ نے ایران پر کئی پابندیاں لگائی ہے ۔امریکہ نے ایران پر پانچ نومبر سے نئی پابندیاں لگانے کا اعلان کیا تھا۔بین الاقوامی نگرانی گروپوں کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ایران کی تیل پر مبنی معیشت کو انتہائی بدتر کردینا چاہتے ہیں تاکہ اسے اس کے جوہری عزائم اور بیلسٹک میزائل پروگرام کو بند کرنے کے لئے پابند کیاجاسکے ۔امریکہ ایران پر شام، یمن اور لبنان جیسے ممالک میں دہشت گردوں کو حمایت کا الزام بھی لگاتا رہا ہے ۔قابل غور ہے کہ سال 2015 میں ایران نے امریکہ، چین، روس، جرمنی، فرانس اور برطانیہ کے ساتھ ایک معاہدہ پر دستخط کیاتھا۔ اس معاہدے کے تحت ایران نے اس پر عائد اقتصادی پابندیوں کو ہٹانے کے بدلے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے پر اتفاق کیا تھا۔