عدلب میں ایک ملین بچوں کی زندگی داؤ پر: یونیسیف 36 گھنٹوں کے دوران 28 بچوں کا قتل

دبئی۔ 14 اگسٹ ۔(سیاست ڈاٹ کام) اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال ’یونیسیف‘ نے خبردارکیا ہے کہ شام کی عدلب گورنری میں اپوزیشن اور اسد حکومت کے درمیان ممکنہ تصادم کے پیش نظر وہاں پر موجود ایک ملین بچوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں۔’العربیہ‘کے مطابق ’یونیسیف‘ کے ڈائریکٹر برائے مشرق وسطیٰ و شمالی افریقہ خیرت کابالاری نے ایک بیان میں کہا کہ شام میں بچوں کیخلاف جنگ صرف عدلب گورنری میں ایک ملین بچوں کی زندگیوں کیلئے خطرہ بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدلب اور شمال مغربی شام کے علاقے حلب میں 36گھنٹوں کے دوران 28 بچے قتل کردیے گئے۔ ان میں ایک پورا خاندان بھی شامل ہے جس کے سات افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ کابا لاری نے کہا کہ ’یونیسیف‘ کی طرف سے طبی امدادی سرگرمیوں کیلئے بھیجے گئے تین امدادی کارکنوں پر حملے کیے گئے۔ ان میں سے دو کارکن خواتین اور بچوں کو طبی امداد مہیا کررہے تھے۔ اس کے علاوہ یونیسیف کے زیرانتظام کام کرنے والے طبی مراکز اور امدادی گاڑیوں کو بھی حملوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔خیال رہے کہ عدلب شامی اپوزیشن کاگڑھ ہے۔ ملک کے دوسرے علاقوں سے اپوزیشن کے گروپوں کو وہاں پر جمع کیا گیا ہے۔ اسد حکومت نے متعدد بار کہا ہے کہ عدلب میں فوجی کارروائی اس کا اگلا ہدف ہے۔ دوسری جانب اقوام متحدہ نے عدلب میں کسی قسم کی فوجی کارروائی کے سنگین نتائج پر انتباہ کیا ہے۔عدلب میں مقیم 25 لاکھ آبادی میں تقریبا نصف اپوزیشن کے حامیوں پر مشتمل ہے۔