بھینسہ۔/19فبروری، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) مدھول مستقر پر 7فبروری کی رات کو جامع مسجد میں نامعلوم شرپسندوں کی جانب سے مردہ خنزیر پر پھینکنے کا واقعہ رونما ہوا تھا جس میں مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے۔ اس واقعہ کو لیکر ڈی ایس پی بھینسہ آر گریدھر و سرکل انسپکٹر بھینسہ واسودیوراؤ نے شہر کی تمام مساجد کے صدور و ذمہ داران کو ایک نوٹس جاری کی جس میں تحریر کیا گیا ہے کہ مساجد میں کمیٹیوں کی جانب سے سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے جائیں اور واچ مین مقرر کئے جائیں۔جس پر بھینسہ شہر کی تمام مساجد کے صدور و ذمہ داران نے ایک اجلاس طلب کرتے ہوئے اس نوٹس پر غور و خوض کیا اور اس مشاورتی اجلاس میں یہ طئے پایا کہ آج تک مساجد میں کیمرے اور چوکیدار رکھنے کی ضرورت نہیں پڑی کیونکہ مسجد عبادت کی جگہ ہے اس کی حفاظت اللہ ہی کرنے والا ہے۔
اس طرح کی ناقابل قبول شرائط پیش کرتے ہوئے پولیس غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کررہی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ پولیس بروقت کارروئی کرتے ہوئے شرپسندوں کو کیفر کردار تک پہنچاتی لیکن اس طرح لاء اینڈ آرڈر کو مسجد کمیٹیوں کی ذمہ داری قراردینا قابل مذمت ہے۔ بھینسہ پولیس اسٹیشن میں تمام مساجد کے صدور جن میں مولانا شاہد غفران قاسمی، مہتمم دارالعلوم جامعہ عربیہ بھینسہ صدر مدینہ مسجد محمد علاء الدین، محمد عبدالقدیر مومنان مسجد، مسجد پنجہ شاہ صدر احمد حسین، درگاہ شریف صدر عبدالعتیق، مسجد یکمینار وکیل خان، مسجد مقبرہ صدر محمد اختر، ابوبکر مسجد صدر فیض اللہ، جامع مسجد صدر رحمت خاں، مسجد قباء صدر شیخ محمد قریشی اور مساجد کمیٹیوں کے ذمہ داران حافظ عثمان خان، محمد عبدالغفار، محمد علیم الدین، میر نواب علی نے بھینسہ پولیس اسٹیشن میں سرکل انسپکٹر واسودیو راؤ سے ملاقات کی اور مسجد کی کمیٹیوں کو پولیس کی جانب سے جو ہدایتیں دی گئی تھیں اس پر پولیس کو بتایا کہ مساجد میں سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب اور 24گھنٹے واچ مین رکھنا ممکن نہیں، مسجد کے حفاظتی انتظامات ہم سے جو بھی ممکن ہوں گے اسے پورا کرنے کی ہم کوشش کریں گے۔ اس کے علاوہ پولیس کو بھی سخت چوکسی اختیار کرتے ہوئے مساجد و دیگر عبادت گاہوں کی حفاظت کرنے کیلئے اقدامات کامشورہ دیا۔