عاپ کے گروہوں میں مفاہمت کے آثار ، یوگیندر یادو سے ملاقات

نئی دہلی۔ 17 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) عام آدمی پارٹی کے متحارب گروہوں میں مفاہمت کے آثار نظر آرہے ہیں۔ اروند کجریوال کے حامی سینئر قائدین نے کل رات دیر گئے یوگیندر یادو سے ملاقات کی اور کئی حساس مسائل پر بات چیت کی۔ چند گھنٹے قبل چیف منسٹر دہلی ، بنگلورو سے واپس آئے تھے۔ دونوں گروہوں میں بات چیت کو ’’مثبت‘‘ قرار دیا۔ عام آدمی پارٹی ذرائع نے کہا کہ پارٹی کے قائدین سنجے سنگھ، کمار وشواس، اشوتوش اور اشیش کھیتن نے کل رات دیر گئے یوگیندر یادو سے ملاقات کی۔ مذاکرات 3 بجے شب تک جاری رہے۔ بات چیت ایک ایسے وقت ہوئی جبکہ یوگیندر یادو اور پرشانت بھوشن نے کجریوال سے جاریہ تنازعہ کے خاتمہ کیلئے ملاقات کا وقت طلب کیا ہے۔ اس سلسلے میں ایک پیغام کجریوال کو دونوں قائدین کی جانب سے کل صبح روانہ کیا گیا تھا۔ حالانکہ کجریوال نے کل رات دیر گئے تک اس ایس ایم ایس کا کوئی جواب نہیں دیا تھا

لیکن پارٹی قائدین نے یادو سے ملاقات کی۔ سنجے سنگھ نے اپنے ٹوئٹر پر تحریر کیا کہ انہیں خوف تھا کہ پارٹی میں گزشتہ چند دن سے کیا ہورہا ہے ، چنانچہ یوگیندر یادو سے بات چیت کا آغاز کیا گیا۔ آغاز اچھا تھا۔ یادو کے قریبی ذرائع نے بھی اسی قسم کے احساسات کا اعادہ کیا۔ کمار وشواس نے کامیابی کا ادعا کیا۔ کجریوال کل رات 12 دن نیچروپیتھی کے بعد بنگلورو سے دہلی سے واپس آئے ہیں جہاں وہ اپنی پرانی کھانسی اور ذیابیطس کا علاج کرا رہے تھے۔ یوگیندر یادو اور پرشانت بھوشن کی جانب سے ملاقات کا وقت طلب کرتے ہوئے اروند کجریوال کو مفاہمت کی پیشکش کرنے کے ایک دن بعد پارٹی کے سربراہ نے جواب دیا کہ ہماری ملاقات جلد ہی ہوگی۔ کجریوال نے دونوں قائدین کے ایس ایم ایس کے جواب میں مفاہمت کا ارادہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ جلد ہی ملاقات کریں گے۔

پارٹی قائد کمار وشواس نے آج صبح ٹوئٹر پر تحریر کیا کہ تین گھنٹے کی نیند کے بعد وہ سکون محسوس کررہے ہیں۔ گزشتہ چند ہفتوں سے عام آدمی پارٹی داخلی انتشار کا شکار تھی۔ متحارب گروہ ایک دوسرے پر الزام تراشی کررہے تھے۔ کجریوال کے حامیوں نے الزام عائد کیا تھا کہ بھوشن اور یادو چاہتے تھے کہ پارٹی دہلی اسمبلی انتخابات میں ناکام رہے چنانچہ وہ دہلی چیف منسٹر کو قومی کنوینر کے عہدہ سے ہٹانے کی کوشش کررہے ہیں۔ تعطل توڑنے کیلئے پارٹی قائدین نے کل رات دیر گئے تک یوگیندر یادو سے ملاقات کی جو ابتدائی نوعیت کی تھی۔اس کے باوجود دونوں فریقین کے درمیان ہنوز اختلافات برقرار ہیں جن کی یکسوئی ضروری ہے۔ اعلیٰ سطحی قائدین کے بموجب ایسا جلد ہی کیا جائے گا