عام زندگی میں اردو زبان کے استعمال پر زور

بیدر۔19ڈسمبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) اردو زبان سے متعلق لئے گئے فیصلے کے بموجب بیدر کی قدیم ادبی تنظیم ’’ یاران ادب‘‘ بیدر کی دوسری نشست موقوعہ آر پلازا تعلیم صدیق شاہ بیدر میں منعقد ہوئی جس میں جناب احمد حاطب صدیقی کا اردو کی ترقی و ترویج سے متعلق مضمون پڑھایا گیا جس کو شرکاء نے کافی دھیان سے سنا ۔ مضمون نگار نے اپنے مضمون میں مشورے دیئے ہیں کہ اردو بولتے وقت انگریزی الفاظ کی ویلڈنگ نہ کی جائے ‘ہم اپنے دستخط اردو میں کریں ‘ اپنے گھروں میں نام کی تختیاں اردو میںلگائیں ‘ سڑکوں کے کنارے آویزاں کئے جانے والے ہورڈنگس اردو میں ہوں ‘ اپنا ذاتی کاروبار اور اس کا حساب کتاب اردو میں لکھ کر رکھا کریں اور ان تمام سے بڑھ کر اردو کے رواج کی ایک طاقتور تحریک برپا کریں جس سے قوم کی خود اعتمادی بحال ہوگی اور حکومت بھی عوامی زبان اردو اپنانے پر مجبور ہوگی ۔ مضمون کی خواندگی کے بعد اظہار خیال کرتے ہوئے جنرل سکریٹری یاران ادب بیدر نے کنڑا ساہتیہ پریشد ( کاساپا) کے طرز پر نوجوانوں میں اردو تنظیم کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اس تنظیم میں محب اردو لڑکیوں کی شمولیت کو مکمل انقلابی عمل سے تعبیر کیا اور کہا کہ اردو کی بقاء و ترقی کیلئے سیاسی فوائد کا استعمال ہوسکتا ہے لیکن سیاسی فوائد کے حصول کیلئے خود اردو زبان کا استعمال ایک مہلک مرض ہوگی جس کو نئی نسل شائد ہی برداشت کرپائے ۔ نوجوان قائد محمد قیام الدین کنوینر کا کہنا تھا کہ ملتانی کالونی فیض پورہ میں نوجوان کو منظم کرنے کا کام شروع ہوا ہے لیکن ممبر سازی کی کوئی فیس نہ لی جائے ۔ رکن سازی مفت ہو اور زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو اردو کی ترقی و بقاء کے بیانر جمع کیا جائے ۔ محمد امیر الدین امیر صدر یاران ادب بیدر نے اردو کے چلن کو عام کرنے کی پندرہ دن قبل کی گئی کوشوں کی ستائش کی گئی ۔ ماہر فنون لطیفہ اور سابق ایچ او ڈی ڈپارٹمنٹ آف لنگویجس آچاریہ بنگلور بی اسکول ( بنگلور) جناب محمد یوسف خان نے ہر پیر اور بعد نماز ہونے والی ان نشستوں میں اردو زبان کے ماہر اور بزرگ شہریوں( معہ خواتین) سے اردو کی ترقی سے متعلق لکچر دلانے کیلئے منتخب افراد کی تجویز پیش کی جس کو قبول کرلیا گیا ۔ ممتاز بزرگ شاعر جناب کمال الدین شمیمؔ اور سخاوت علی سخاوتؔ و دیگر شریک نشست رہے ۔ آخر میں محمد امیر الدین امیر نے دُعا کی ۔