غیر سرکاری مصارف 30,000 کروڑ روپئے
نئی دہلی۔/13مئی، ( سیاست ڈاٹ کام ) ہندوستان کی تاریخ میں لوک سبھا انتخابات یوں تو کئی بار منعقد ہوئے لیکن 2014ء کے انتخابات کو مہنگے ترین انتخابات سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ جہاں یک اندازے کے مطابق سرکاری خزانے پر 3426 کروڑ روپئے کا بوجھ پڑا ہے جو 2009ء کے انتخابی مصارف سے 131فیصد زیادہ ہے۔ پانچ سال قبل منعقد کئے گئے لوک سبھا انتخابات میں سرکاری خزانے پر 1483 کروڑ روپئے کے مصارف عائد ہوئے تھے۔ دوسری طرف اگر انتخابی مصارف کا جائزہ لیا جائے تو سرکاری طور پر کئے گئے مصارف کے
علاوہ سیاسی پارٹیوں اور امیدواروں کی جانب سے نو مرحلوں میں پایہ تکمیل کو پہنچنے والے انتخابی مصارف 30,000 کروڑ روپئے تک پہنچ گئے ہیں۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ امریکہ کے برعکس جہاں صرف دو پارٹیاں ری پبلکن اور ڈیمو کریٹ ہی انتخابی میدان میں ہوتی ہیں، ہندوستان میں کئی نئی پارٹیاں بھی تشکیل دی گئیں اور وہ انتخابی میدان میں اُتر گئیں۔یہی نہیں بلکہ اب کی بار آزاد امیدواروں کی تعداد میں بھی قابل لحاظ اضافہ ہوا ۔ لازمی بات ہے کہ جب امیدوار زیادہ ہوں گے تو مصارف بھی زیادہ ہوں گے۔ ووٹر بیداری کی مہمات، ووٹر سلپ کی تقسیم اور پہلی بار ووٹر ویر یفائیڈ پیپر آڈیٹ ٹریل متعارف کئے جانے کے بعد مصارف میں بے تحاشہ اضافہ ہوگیا۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے دیئے گئے ایک بیا ن کے مطابق 2004ء میں منعقد کئے گئے انتخابات کے مصارف1952ء میں منعقد کئے گئے پہلے عام انتخابات سے 20 گنا زیادہ مصارف کے ذریعہ منعقد کئے گئے تھے۔