عام آدمی پارٹی کے باغی گروپ کے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان

نئی دہلی۔ 15 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) عام آدمی پارٹی کے ناراض گروپ نے اپنے آئندہ لائحہ عمل بشمول تحریک کے قومی کنوینر کا اعلان کردیا اور کہا کہ ملک گیر سطح پر سوراج یاترا شروع کی جائے گی۔ ماہر تعلیم آنند کمار نے جو جواہر لال نہرو یونیورسٹی سے وابستہ ہیں اور جنہیں یادو ، بھوشن اور اجیت جھا کے ساتھ عام آدمی پارٹی کی قومی عاملہ سے خارج کردیا گیا ہے، سوراج ابھیان تحریک کے صدر ہوں گے۔ یہ گروپ جس کا اجلاس 100 سے زیادہ قائدین اور والینٹرس کے ساتھ آج منعقد کیا گیا، تاہم نئی پارٹی کے قیام کے بارے میں کچھ بھی کہنے سے انکار کررہا ہے اور اس کا اصرار ہے کہ وہ اب بھی عام آدمی پارٹی میں برقرار ہیں۔ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یوگیندر یادو نے کہا کہ وہ ڈیکورم کی پیروی کریں گے جس پر عام آدمی پارٹی نے عمل نہیں کیا اور پرزور انداز میں کہا کہ ریاستی خوداختیاری وفاقی ڈھانچہ کے ساتھ قائم کی جائے گی جس میں مقامی شاخوں کو اجازت ہوگی کہ اپنے فیصلے خود کریں۔ تنظیم کو حق معلومات قانون کے دائرہ کے تحت لایا جائے گا اور کردار کے سخت ضابطوں پر عمل آوری ہوگی۔

انہوں نے 100 رکنی مجلس قائمہ کے قیام کا بھی اعلان کیا جو عوام کو ملک گیر سطح پر مستقبل کے لائحہ عمل کے فیصلے کرنے کیلئے مشورے دے گی۔ پارٹی کی جانب سے کوئی نعرے انفرادی زندگی کے بارے میں نہیں لگائے جائیں گے۔ تنظیم عطیہ جات اور اخراجات کا حساب اپنے ویب سائیٹ پر شائع کرے گی۔ عام آدمی پارٹی اور چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال پر تنقید کرتے ہوئے یوگیندر یادو نے کہا کہ نئی تنظیم کسی شخصیت یا کسی گروپ پر مبنی سیاست سے گریز کرے گی اور صنف، علاقہ اور دیگر گروپس کے تنوع کی عکاسی کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم عام آدمی پارٹی سے مستعفی نہیں ہورہے ہیں۔ ہم پارٹی کے بنیادی اُصولوں کے علمبردار ہیں۔ اگر وہ ہماری تائید کریں تو اس کا خیرمقدم کیا جائے گا۔ ہم نے پارٹی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ ہمارے درمیان اختلافات مخالف پارٹی سرگرمیوں کے بارے میں تھے جسے پارٹی قیادت نے پسند نہیں کیا۔

بھوشن نے اپنا یہ موقف برقرار رکھا کہ نئی تنظیم اُن اصولوں کو آگے بڑھانے کیلئے قائم کی گئی ہے، جن پر عام آدمی پارٹی قائم ہوئی تھی، لیکن اس نے ان سے انحراف کیا۔ انہوں نے کہا کہ سوراج ابھیان انہیں مقاصد کی پیشرفت کیلئے ہیں جو عام آدمی پارٹی کے بنیادی اصول ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سچ ہے کہ سوراج ابھیان ایک آزاد تنظیم ہوگی، اس کی کمیٹی کا ابتداء ہی میں اعلان کردیا گیا ہے۔ یہ کوئی سیاسی پارٹی قطعی نہیں ہے۔ ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم سیاسی پارٹی قائم نہیں کریں گے۔ سیاسی پارٹی الیکشن کمیشن میں خود کو رجسٹر کرتی ہے اور انتخابی مقابلہ میں حصہ لینے کیلئے اس کا لزوم ہے۔ مستقبل میں جب ہم ان معیاروں اور سوراج کے جذبہ کی تکمیل میں کامیاب ہوجائیں گے تو تنظیم کو سیاسی پارٹی میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ پارٹی کی جانب سے تادیبی کارروائی کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سزا ہونے دیجئے۔