عام آدمی پارٹی پر بی جے پی، کانگریس اور جے ڈی یو کی تنقید

نئی دہلی ۔ 4 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی، کانگریس اور جے ڈی (یو) نے آج عام آدمی پارٹی پر پرشانت بھوشن اور یوگیندر یادو کے اسی امور کمیٹی سے اخراج پر متفقہ طور پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ پارٹی میں کوئی داخلی جمہوریت نہیں ہے۔ اور اس اقدام سے عوام کے جذبات ’’مجروح‘‘ ہوں گے۔ بی جے پی کے سینئر قائد وجئے گوئل نے کہا کہ یادو اور بھوشن کا کمیٹی سے اخراج مزید تنازعہ پیدا کرے گا۔ عام آدمی پارٹی کے ان وعدوں کا کیا ہوا جن پر عوام نے آنکھیں بند کرکے یقین کرلیا تھا۔ عام آدمی پارٹی خود کو بی جے پی اور کانگریس سے مختلف پارٹی ظاہر کررہی تھی۔ کانگریس نے بھی عام آدمی پارٹی پر زبردست تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی میں کوئی داخلی جمہوریت نہیں ہے۔ عام آدمی پارٹی میں بھی بی جے پی کی طرح ہی ’’آمریت‘‘ موجود ہے۔ بی جے پی نے مارگ درشک منڈل قائم کیا ہے لیکن اس کے قائدین اس منڈل کے ارکان کی بات نہیں سنتے۔ یہی صورتحال عام آدمی پارٹی میں بھی موجود ہے جہاں صرف چند افراد کی بات سنی جاتی ہے۔ کانگریس کے قائد پرکاش اگروال نے اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے یہ بات کہی۔

جنتادل (یونائیٹیڈ) کے جنرل سکریٹری اے سی تیاگی نے کہا کہ یہ عام آدمی پارٹی کا داخلی معاملہ ہے لیکن جو کچھ ہورہا ہے بہت بدبختانہ ہے۔ پارٹی قائدین کے درمیان شخصی اختلافات کوئی اچھی بات نہیں ہے۔ بی جے پی کے قائد گوئل نے مزید کہا کہ عام آدمی پارٹی نے دہلی کے عوام کو دھوکہ دیا ہے۔ جب سیاسی امور کمیٹی کے ارکان کا اخراج ممکن ہے تو آپ تصور کرسکتے ہیں کہ پارٹی کارکنوں کا کیا حشر ہوگا۔ پارٹی کو چاہئے کہ اپنے تمام تیقنات کی تکمیل کرے اور ایسے تنازعات کا خاتمہ کردے۔ انہوں نے کہا کہ یادو اور بھوشن کا سیاسی امور کمیٹی سے اخراج مزید تنازعہ پیدا کرے گا۔ دریں اثناء اروند کجریوال کنوینر عام آدمی پارٹی و چیف منسٹر دہلی پارٹی کے سینئر قائدین پرشانت بھوشن اور یوگیندر یادو کے ساتھ تصادم کے راستہ پر چل پڑے۔ دونوں سینئر قائدین کو آج پارٹی کی سیاسی امور کمیٹی سے خارج کردیا گیا۔ اس طرح عام آدمی پارٹی میں داخلی اقتدار کی کشمکش منظرعام پر آ گئی۔ 21 رکنی قومی عاملہ کے اجلاس میں کجریوال کے حامیوں نے 11 کے مقابل 8 ووٹوں کے ذریعہ یادو اور بھوشن کو کمیٹی سے خارج کردیا۔ اروند کجریوال اور ہابنگ پائنگ اجلاس میں شریک نہیں تھے۔ چند دن قبل دونوں سینئر قائدین نے اروند کجریوال کو پارٹی کنوینر کے عہدہ سے ہٹا دینے کا مطالبہ کیا تھا کیونکہ وہ چیف منسٹر دہلی منتخب ہوگئے تھے۔