وجہ نمائی نوٹس پر جواب ، بھاری عطیات کی وصولی کا الزام
نئی دہلی ۔ 20 ۔ اپریل : ( سیاست ڈاٹ کام ) : عام آدمی پارٹی کے ناراض قائدین پرشانت بھوشن اور یوگیندر یادو نے آج قومی تادیبی کارروائی کمیٹی کی جانب سے انہیں جاری کردہ وجہ نمائی نوٹس پر پارٹی قیادت کو تنقید کانشانہ بنایا اور یہ الزام عائد کیا کہ کمیٹی کے رکن پنکج گپتا نے بعض کمپنیوں بالخصوص اشیش کیتھاں نے بھاری عطیات حاصل کر کے ایک کمپنی کے حق میں پیڈ یوز اسٹوری تیار کروائی تھی ۔ پرشانت بھوشن نے 17 اپریل کو جاری کردہ وجہ نمائی نوٹس کا جواب دیتے ہوئے گپتا اور کیتھاں کے خلاف سنگین الزامات پائے جاتے ہیں ۔ اس پس منظر میں وہ کس طرح جج کا رول ادا کرسکتے ہیں ۔ دنیش واگھیلے کی زیر قیادت پارٹی کی قومی تادیبی کارروائی کمیٹی جس کے رکن کیتھاں اور گپتا ہیں نے یہ الزام عائد کیا کہ پرشانت بھوشن نے پارٹی کے لیے عطیات نہ دینے کی عوام سے اپیل کرتے ہوئے پارٹی مخالف سرگرمیوں کے مرتکب ہوئے ہیں ۔ تاہم بھوشن نے جوابی الزام عائد کیا کہ گپتا نے تادیبی کارروائی کمیٹی کے کئی فیصلوں پر عمل آواری نہیں کی ۔ 2 کروڑ روپئے عطیہ قبول کرنے کے معاملہ کا حوالہ دیتے ہوئے بھوشن نے کہا کہ یہ کیس پارٹی لوک پال ایڈمیرل ایل رام داس سے رجوع کرنے کی بجائے انہیں عہدہ سے برطرف کردیا گیا ۔ انہوں نے گپتا سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ تم یہ جانتے ہو کہ تمہارے خلاف سنگین الزامات ہیں ۔ جسے نیشنل لوک پال ایڈمیرل رام داس سے رجوع کیا جانا چاہئے تھا ۔ جب کہ پارٹی قواعد کے مطابق سیاسی امور کمیٹی سے منظوری حاصل کر کے شیل کمپنی سے 2 کروڑ روپئے کا عطیہ قبول کرنا چاہئے تھا ۔ علاوہ ازیں نیشنل ڈسپلینری کمیٹی کے فیصلوں پر عمل درآمد نہیں کیا گیا جس کی قیادت میں نے کی تھی اور تم اس کے رکن تھے ۔ پارٹی دستور کے مطابق تمہارے خلاف سنگین الزامات کو لوک پال سے رجوع کیا جانا چاہئے تھا ۔ اس کی بجائے ایڈمیرل رام داس کو ہی ہٹا دیا گیا ۔ پرشانت بھوشن نے الزام عائد کیا کہ سابق جرنلسٹ کیتھاں نے میڈیا میں ایک من گھڑت کہانی پیش کی ہے ۔ ان کے خلاف کارروائی کرنے کی بجائے انہیں دہلی ڈائیلاگ کمیٹی کا صدر نشین اور قومی تادیبی کارروائی کمیٹی کا رکن بنایا گیا ۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ الزامات کی تردید کرنے کی بجائے پارٹی یہ استدلال پیش کردی ہے کہ پارٹی کے عطیات پر وزارت داخلہ نے کلین چٹ دیدی ہے ۔ تاہم عام آدم پارٹی لیڈر اشوتوش سے پارٹی قیادت کی پر زور مدافعت کرتے ہوئے کہا کہ ناراض قائدین جب الزامات عائد کرتے ہیں وہ خود موضوع مذاق بن جاتے ہیں اور اشیش کیتھاں کے لیے ان کے جرنلزم کے بارے میں کسی میڈیا سے سرٹیفیکٹ کی ضرورت نہیں ہے ۔