عام آدمی پارٹی دوسروں سے مختلف نہیں : کانگریس

نئی دہلی 5 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) عام آدمی پارٹی میں داخلی اختلافات کے دوران اس کے سیاسی حریفوں نے آج کہا کہ پارٹی نے سب سے مختلف ہونے کا جو ادعا کیا تھا وہ غلط ثابت ہوگیا ہے اور وہ بھی ایک ایسی ہی سیاسی تنظیم ہے جو کسی فرد کے اطراف گھوم کر کام کرتی ہے ۔ کانگریس نے الزام عائد کیا کہ عام آدمی پارٹی میں مستحکم پارٹی دستور نہیں ہے جبکہ بی جے پی نے کہا کہ یہ پارٹی خاندانی انداز میں ایک فرد واحد کے اطراف گھوم کر کام کرتی ہے جو کچھ دوسری علاقائی جماعتوں کا طریقہ رہا ہے ۔ این سی پی نے بھی اس خیال سے اتفاق کیا ہے ۔ بی جے پی کے ترجمان جی وی ایل نرسمہا راؤ نے کہا کہ پارٹی میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ پارٹی بھی لالو پرساد یادو کی آر جے ڈی اور ملائم سنگھ یادو کی ایس پی سے مختلف نہیں ہے ۔ یہ بھی ایک خاندان یا فرد واحد کی پارٹی ہے اور صرف اروند کجریوال ہی سب پر اپنا حکم چلا رہے ہیں۔

دریں اثناء عام آدمی پارٹی میں اختلافات آج مزید گہرے ہوگئے جبکہ سینئر قائد مایانک گاندھی نے ’’اخراج کے طریقہ اور مقصد‘‘ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی امور کمیٹی سے پرشانت بھوشن اور یوگیندر یادو کی علحدگی کا طریقہ صدمہ انگیز ہے۔ مایانک گاندھی نے کل رائے دہی میں حصہ نہیں لیا جبکہ قومی عاملہ کے اجلاس میں ان دونوں کے اخراج کے بارے میں رائے دہی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس وقت صدمہ پہنچا جبکہ سیسوڈیا نے یادو اور بھوشن کی علحدگی کی تجویز پیش کی حالانکہ دونوں نے رضاکارانہ طور پر سبکدوش ہونے کا پیشکش کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں علحدہ کرنے کی برسرعام قرارداد پر انہیں صدمہ پہنچا۔ خاص طور پر اس لئے کیونکہ وہ خود سبکدوش ہونے کیلئے تیار تھے۔ پارٹی کے مہاراشٹرا سے سینئر رکن مایانک گاندھی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ کجریوال نے قبل ازیں کہا تھا کہ وہ عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر کی حیثیت سے کارگذار نہیں رہ سکیں گے۔ اگر بھوشن اور یادو سیاسی امور کمیٹی کے رکن برقرار رہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ الزام عائد کیا گیا ہیکہ یادو کجریوال کے خلاف سازش کررہے تھے۔