عامۃ المسلمین کو نماز کی پابندی کی تلقین

جامعہ غوثیہ رضویہ لنگم پیٹ کے جلسہ سے مفتی سلمان رضا خاں کا خطاب
لنگم پیٹ /24 مئی (راست) اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام پر عمل آوری کمال ایمان کا ذریعہ ہے۔ رب کی بارگاہ میں ادب کا تقاضہ یہ ہے کہ جب نماز کے لئے اس کی بارگاہ میں کھڑے ہوں تو ادب سے کھڑے ہوں۔ لباس صحیح حالت میں رہے، اتنا لمبا نہ رہے کہ موڑنے کی ضرورت پڑجائے۔ حالت نماز میں کپڑوں کو موڑنا مکروہ تحریمی ہے اور ایسی حالت میں نماز کا دہرانا ضروری ہے۔ ان خیالات کا اظہار جامعہ غوثیہ رضویہ لنگم پیٹ کے زیر اہتمام منعقدہ اٹھائیسواں سالانہ جشن عظمت مصطفی و جلسہ دستار بندی حفاظ سے خطاب کرتے ہوئے مفتی محمد سلمان رضا خان نے کیا۔ انھوں نے کہا کہ گھروں میں یا دعوتوں میں جب بھی کھانا کھائیں تو بسم اللہ پڑھ کر صحیح سنت طریقے سے کھائیں۔ میز اور کرسی پر کھانا نہ کھائیں، اس لئے کہ میز کرسی پر کھانا کھانا یہود و نصاری کا طریقہ ہے۔ انھوں نے عامۃ المسلمین کو نماز کی پابندی کی تلقین کی اور اپنے عقیدہ و عمل کی حفاظت کرنے کی تاکید کی۔ مولانا محمد تراب الدین رضوی ناظم دارالعلوم غوثیہ رضویہ ناندیڑ نے کہا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جب انسان مر جاتا ہے تو اس کے اعمال کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے، مگر تین چیزیں ایسی ہیں کہ مرنے کے بعد ان کا ثواب مرحوم کو پہنچتا رہتا ہے۔ اول صدقہ جاریہ، دوم وہ علم جس سے فائدہ اٹھایا جاتا رہے اور سوم وہ نیک اولاد جو اپنے والدین کے لئے دعائے مغفرت کرتی رہے۔ ڈاکٹر سید مخدوم محی الدین قادری سینئر جرنلسٹ ورنگل نے کہا کہ وہ لوگ خوش نصیب ہیں، جن کی اولاد حافظ قرآن ہو۔ کل میدان محشر میں حفاظ اپنے ماں باپ اور اپنے متعلقین و معاونین کی سفارش کرکے جنت میں داخل کروائیں گے۔ مولانا سید غلام غوث قادری پونے (مہاراشٹرا) نے بھی خطاب کیا۔