عازمین حج سے قربانی کیلئے پیشگی فیس کی وصولی پر اعتراض

حج کمیٹی آف انڈیا کے اقدام پر مسلم تنظیموں کا ردعمل
لکھنو ۔ 18 ۔ مئی (سیاست ڈاٹ کام) مختلف مسلم تنظیموں نے آج عازمین حج سے قربانی کیلئے پیشگی فیس کی ادائیگی کو لازمی قرار دینے پر ناراضگی ظاہر کی ہے اور اس اقدام کو مخالفت شریعت سے تعبیر کیا ہے ۔جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ مولانا نظام الدین نے کہا کہ حج کمیٹی آف انڈیا نے حج کے دوران قربانی کو لازمی قرار دیتے ہوئے پیشگی فیس کی وصولی کا غلط قدم اٹھایا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حج کمیٹی کا یہ فریضہ ہے کہ ادائیگی نماز ، آمد و رفت اور دیگر سہولیات کیلئے انتظامات کرتے ہیں۔ قربان کی ادائیگی حاجیوں کا شخصی معاملہ ہے جس میں مداخلت نہیں کی جاسکتی۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی حاجی معاشی تنگدستی کے باعث قربانی سے گریز کرسکتا ہے اور اس کے عوض 10 روزے رکھ سکتا ہے ۔ ان حالات میں پیشگی فیس کی وصولی نامناسب اور غیر منصفانہ ہوگی ۔ ریاستی صدر جمیعتہ العلماء ہند مولانا اسد رشیدی نے کہا کہ حاجیوں کو قربانی کیلئیپیشگی فیس کی وصولی سے مستثنیٰ قرار دیا جائے اور یہ حاجیوں کی صوابدید پر چھوڑ دیا جائے ۔ وہ قربانی دیں گے یاپھر روزے رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مناسک حج کے مختلف طریقے ہیں اور ہر ایک کیلئے قربانی کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جمیعتہ العلماء کے قومی صدر مولانا ارشد مدنی نے پیشگی فیس کی وصولی کی برخاستگی کیلئے بہت جلد مرکزی حکومت سے نمائندگی کریں گے۔ اگر کوئی مثبت اقدام نہیں کیا گیا تو جمیعتہ العلماء کے مجلس عامہ کے اجلاس میں یہ معاملہ زیر غور ہوگا۔ ظہور اسلامک ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشن شبلی اکیڈیمی کے مولانا اشتیاق احمد نے کہا کہ یہ امر ناقابل فہم ہے کہ حاجیوں پر قربانی کا لزوم کیوں عائد کیا گیا اور یہ حاجیوں کے حقوق میں غیر ضروری کے مداخلت کے مترادف ہے اورمذکورہ تجویز سے فی الفور دستبرداری اختیار کرلی جائے۔