عادل آباد کو خشک سالی سے متاثرہ ضلع قرار دینے کا مطالبہ

حکومتی کار کردگی پر تنقید، احتجاجی جلسہ عام سے تلگودیشم قائدین کا خطاب
عادل آباد 16 نومبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) عادل آباد کو خشک سالی سے متاثر ضلع قرار دینے متاثرہ فصلوں کا معاوضہ فی ایکر 20 ہزار روپئے کسانوں کو ادا کرنے اور خودکشی کرنے والے کسانوں کے افراد خاندان کو فی کس 10 لاکھ روپئے ایکس گریشیا ادا کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے تلنگانہ سطح کے ریاستی قائدین نے ضلع کلکٹر مسٹر ایم جگن موہن کو ایک تحریری یادداشت کلکٹر کیمپ آفس پہنچ کر دیا ۔ قبل از کیمپ آفس کے روبرو جہاں ایک طرف دھرنا منظم کیا وہیں دوسری طرف مستقر عادل آاد کے آر اینڈ بی گیسٹ ہاوز کے روبرو موجودہ وسیع میدان میں ایک احتجاجی جلسہ منعقد کرتے ہوئے ریاستی حکومت کی کارکردگی پر سخت تنقید کیا اور کہا کہ پانچ ماہ کے دوران ریاست تلنگانہ میں 530 زراعت پیشہ افراد خودکشی کا شکار ہوچکے ہیں جبکہ ضلع میں تاہم 74 کسانوں کی نشاندہی کی گئی جس میں تلگودیشم اراکین اسمبلی و لوک سبھا بالترتیب پانچ لاکھ ، دس لاکھ روپئے اپنی اجرتوں سے اکٹھا کرتے ہوئے خودکشی کرنے والے کسانوں کے افراد خاندان میںفی کس 50 ہزار روپئے چیک کی صورت میںفراہم کئے جارہے ہیں۔ تلنگانہ تلگودیشم پارٹی ریاستی صدر مسٹر ایل رمنا اراکین اسمبلی مسٹر ایرابلی دیا کر راو سابق وزیر مسز ریدا ریڈی چندر شیکھر ریڈی جوپلی بلرہ ،راجندر نگر اراکین اسمبلی میں بالترتیب مسٹر رگونی ناتھ ،پرکاش گوڑ سابق رکن لوک سبھا مسٹر راتھوڑ رمیش ریاستی سکریٹری و مائناریٹی قائد مسٹر یونس اکبانی نے بھی اپنے خطاب میں ٹی آر ایس حکومت اور چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راو کی کارکردگی پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسمبلی اجلاس میں پیش کردہ بجٹ کو عوام کے لئے مایوس کن قرار دیا اور کہا کہ تلگودیشم کے دورہ اقتدار میں کسانوں کو 9 گھنٹہ برقی فراہم کرتے ہوئے زرعی پیداوار کو فروغ دیا جارہا تھا برقی سربراہی خاطر خواہ نہ ملنے کے بناء پر فصلوں سے متاثرہ افراد خودکشی کو کر رہے ہیں۔ ٹی آر ایس حکومت 173 انجینئرنگ کالجس کو بند کرنے کے علاوہ مدارس کو بھی بند کرنا چاہتی ہے ۔ پولیس عہدیداروں کے تبادلے مقامی قائدین کی ایماء رکھتے ہوئے پولیس کی جانب سے خاطر خواہ رقم بٹورنے کا بھی الزام عائد کیا گیا ۔ عرصہ دراز سے وظیفہ حاصل کرنے والے افراد کو وظیفہ حاصل کرنے سے مایوس کرنے پر بھی سخت تنقید کی گئی ۔ اس موقع پر ضلع کے 74 کسانوں کے افراد خاندان میں 50 ہزار روپیوں کے چیک تقسیم کئے گئے ۔