رشیدالدین
وزیراعظم نریندر مودی اپنے بیرونی دورہ کے موقع پر آخر کیا ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ بھوٹان، نیپال اور اب جاپان کے دورہ پر انہوں نے مذہبی چھاپ چھوڑی ہے۔ دوسرے ممالک کا دورہ مختلف شعبوں میں باہمی تعلقات کے استحکام کا ذریعہ ہوتے ہیں لیکن نریندر مودی کو خارجہ پالیسی سے زیادہ خود کو مذہبی شخصیت کے طور پر پیش کرنے میں دلچسپی دکھائی دیتی ہے۔ ملک سے باہر نکلتے ہی وہ بھول جاتے ہیں کہ وہ دنیا کی دوسری بڑی جمہوریت کے وزیراعظم ہیں جس کی بنیاد سیکولرازم پر ہے۔ وزارت عظمیٰ پر 100 دن کی تکمیل کے باوجود نریندر مودی سنگھ پریوار اور بی جے پی کے خول سے باہر نکلنے میں ناکام ہیں یا پھر نکلنا نہیں چاہتے۔ اپنے پہلے بیرونی دورہ بھوٹان اور پھر نیپال میں نریندر مودی وزیراعظم کم اور مذہبی شخصیت زیادہ نظر آئے۔ جاپان کے دورہ کا آغاز بھی انہوں نے مندروں کے شہر کیوٹو سے کیا۔ مذہبی شناخت رکھنے والے کیوٹو کو وارانسی سے مربوط کردیا جو خود بھی مندروں کے شہر کی حیثیت سے شناخت رکھتا ہے اور وزیراعظم کا حلقہ انتخاب بھی ہے۔ کیوٹو کی طرح وارانسی کو بھی اسمارٹ و ہیریٹیج سٹی کے طورپر ترقی دینے جاپان کی مدد حاصل کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس طرح کی سرگرمیوں سے مودی دنیا کو آخر کیا پیام دینا چاہتے ہیں۔ دیگر مذاہب کے ماننے والوں میں احساس محرومی پیدا کرنا ان کا مقصد تو نہیں؟ نریندر مودی کو یہ ہرگز بھولنا نہیں چاہئے کہ وہ صرف ایک مخصوص مذہبی نظریہ کے ماننے والوں کے نمائندہ نہیں بلکہ ان 120 کروڑ عوام کی نمائندگی کرتے ہیں جن میں تمام مذاہب کے ماننے والے ہیں۔
مودی شاید حلف برداری کے عہد کو بھول گئے جس میں انہوں نے ’’ایشور‘‘ کے نام پر تمام کے ساتھ یکساں سلوک اور انصاف کی قسم کھائی تھی۔ نریندر مودی بیرونی ممالک میں سنگھ پریوار کے ’’تہذیبی سفیر‘‘ کی شکل میں دکھائی دے رہے ہیں۔ اس کا ثبوت شہنشاہِ جاپان کو ہندو دھرم کی مقدس کتاب بھگوت گیتا کا تحفہ ہے۔ انہوں نے دراصل یہ پیام دینے کی کوشش کی کہ ہندوستان ایک ہی مذہب کے ماننے والوں کا ملک ہے۔اگر ایسا نہیں ہے تو پھر ایک مذہب کی کتاب تحفتاً پیش کرنا کیا معنی رکھتا ہے۔ مودی اور آر ایس ایس سر سنچالک موہن بھاگوت میں کیا فرق ہے جنہوں نے ہندوستان میں بسنے والے ہر شخص کو ہندو قرار دیا۔ یہی بات مودی بیرون ملک دوسرے انداز میں پیش کر رہے ہیں۔ نظریاتی طور پر مودی بھلے کچھ ہوں لیکن انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ وفاقی جمہوریت ہندوستان کے وہ نمائندے ہیں جس کے دستور کی بنیاد سیکولرازم ہے۔ آپ کو عوام نے نہیں بلکہ ارکان پارلیمنٹ نے وزیراعظم منتخب کیا ہے ۔ ان ارکان پارلیمنٹ کو ہندوستان کے بلا لحاظ مذہب و ملت عوام نے منتخب کیا۔ اس اعتبار سے وزیراعظم تمام مذاہب کے نمائندہ ہوتے ہیں۔ جاپان کے شہنشاہ کو ایک مذہب کی کتاب پیش کرنا دستور کی اسپرٹ کی خلاف ورزی ہے۔ اتنا ہی نہیں مودی نے سیکولر طاقتوں پر یہ کہتے ہوئے طنز کیا کہ ’’سیکولر دوست‘‘ ان کے اس اقدام پر ملک میں طوفان کھڑا کرسکتے ہیں۔ اس طرح مودی نے یہ اعتراف کیا کہ وہ سیکولر نہیں ہیں۔ حیرت اس بات پر ہے کہ مودی کے اس اقدام پر سیکولرازم کے کسی بھی چمپین نے آواز نہیں اٹھائی ۔ ظاہر ہے کہ ہر کسی کو اپنے ووٹ بینک کی فکر ہے۔ کون چاہے گا کہ ہندو طبقہ کے ووٹ سے محروم ہوجائے۔ مودی کا اشارہ سیکولر دوست کا مطلب ملک کی مذہبی اقلیتیں تھا اور انہوں نے احساس دلایا کہ وہ مذہبی اقلیتوں کے نمائندہ نہیں ہیں۔ دراصل ملک میں چار ریاستوں کے اسمبلی چناؤ مودی کے پیش نظر تھے اور ہندو ووٹ بینک مضبوط کرنے کی انہوں نے کوشش کی۔ اگر یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ مودی نے بھگوت گیتا کے ذریعہ جاپان میں چار ریاستوں کی انتخابی مہم چلائی ۔ چونکہ ہندوستان میں مذہبی و مقدس کتابوں کے ذریعہ مہم چلانا انتخابی قواعد کی خلاف ورزی ہے
لہذا سرحد پار سے مودی نے بی جے پی کا پرچار کیا۔ جموں و کشمیر اور مہاراشٹرا پر بی جے پی کی توجہ ہے جہاں فرقہ وارانہ اساس پر ووٹ کی تقسیم فائدہ پہنچاسکتی ہے ۔ مذکورہ ریاستوں کے علاوہ ہریانہ اور جھارکھنڈ میں بھی اپوزیشن سے اقتدار چھیننے کی تیاری کی جارہی ہے۔ دورہ جاپان کے موقع پر نریندر مودی نے وہاں کی روایات کی پاسداری کا خوب خیال رکھا۔ کاش وہ ہندوستان کی ان صدیوں قدیم روایات کے پاسدار اور امین ثابت ہوتے جو روایات مذہبی رواداری ، بھائی چارہ اور ہم آہنگی کا درس دیتی ہے۔ 16 ویں صدی سے چلی آرہی روایت کے مطابق جب جاپانی وزیراعظم نے خصوصی جاپانی چائے سے تواضع کی تو نریندر مودی نے جاپانی روایات کے مطابق گھٹنوں کے بل بیٹھ کر چائے نوش کی۔ مودی کو جاپان کی روایات کا تو اتنا پاس و لحاظ ہے لیکن گجرات میں جب مسلمانوں نے ٹوپی پیش کی تو پہننے سے انکار کردیا تھا۔ اس وقت ملک کی روایت کا خیال کیوں نہیں آیا۔ کیا ہندوستان اور اس کی عوام سے بڑھ کر جاپان کی روایات ہیں؟ 35 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کے تیقن پر کیا جاپان کے آگے گھٹنے ٹیک دیں؟ مودی نے ایک اور جاپانی روایات کی تکمیل کرتے ہوئے مچھلیوں کو دانا ڈالا جسے وہاں نیک شگون تصور کیا جاتا ہے ۔ جاپان کی یہ مچھلیاں واقعی خوش قسمت ہیں کہ نریندر مودی نے ان کا خیال رکھا اور فکر کی حالانکہ یہ وہی نریندر مودی ہیں جنہوں نے گجرات کے چیف منسٹر کی حیثیت سے فسادات کے متاثرین کی پرواہ نہیں کی تھی۔ جس وقت مچھلیوں کو دانا ڈالنے کا منظر ٹی وی پر دکھایا جارہا تھا تو گجرات کے متاثرین کے دل پر کیا گزری ہوگی جو 12 سال گزرنے کے باوجود حکومت کی امداد سے محروم اور انصاف کو ترس رہے ہیں۔ مچھلیوں کو دانا ڈالنے والے نریندر مودی کاش گجرات کے ان ہزاروں خاندانوں کی خبر گیری کرتے ہیں جو سب کچھ لٹ جانے کے سبب دانے دانے کو ترس رہے ہیں۔ احسان جعفری کی بیوہ اور فرضی انکاؤنٹر کے شکار عشرت جہاں اور سہراب الدین شیخ کے خاندان انصاف کے منتظر ہیں۔ متاثرین کی امداد تو دور کی بات ہے غیر سرکاری تنظیموں کی جانب سے متاثرہ خاندانوں کیلئے تعمیر کردہ مکانات کو مودی حکومت نے مسمار کرتے ہوئے متاثرین کو بے آسرا کردیا ۔ مچھلیوں کو دانا ڈالتے وقت گجرات کے متاثرین کا خیال آتا تو کیا ہی بہتر ہوتا ؟
جاپان میں طالبات سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے ہندوستان میں خواتین کی عزت و توقیر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہاں عورتوں کو دیویوں کا مقام حاصل ہے اور ان کی پرستش کی جاتی ہے۔ خواتین کی پرستش اور دیوی کا مقام دینے والے وزیراعظم سے کوئی پوچھے کہ انہوں نے اپنی شریک حیات سے ناانصافی کیوں کی ؟ مودی کی شریک حیات کو آج تک مستحقہ مقام نہیں ملا جو اپنے شوہر کے وزیراعظم بننے کیلئے تپسیا کرتی رہی۔ جو شخص اپنے گھر والوں کا حق ادا نہ کرے ، اس سے دوسروں کے حقوق کی ادائیگی کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے ۔ گجرات فسادات میں خواتین کے ساتھ کیا کچھ نہیں ہوا۔ مودی کی 100 دن کی حکمرانی میں خواتین کے خلاف جرائم کے جو واقعات پیش آئے ہیں، اس نے سماج کو شرمسار کردیا ہے۔ کیا یہی خواتین کی پرستش ہے ؟ نریندر مودی اور ان کے حواری دورہ جاپان کی کامیابی کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ جنوبی ایشیا کے باہر مودی کا یہ پہلا دورہ اپنے حقیقی مقصد میں ناکام ثابت ہوا۔ دورہ کا اصل ایجنڈہ جاپان سے سیول نیوکلیئر معاہدہ تھا لیکن جاپان نے اس سے انکار کیا ۔ امریکہ سے کئے گئے نیوکلیئر معاہدہ کی طرز پر ہندوستان جاپان سے معاہدہ کا خواہاں تھا لیکن جاپان میں ان شرائط پر معاہدہ سے انکار کیا اور نیوکلیئر عدم پھیلاؤ معاہدہ پر ہندوستان کی دستخط کی مانگ کی۔ جاپان کو شاید اس بات کا بھروسہ نہیں کہ یورانیم حاصل کرنے کے بعد ہندوستان اسے اسلحہ کی تیاری کیلئے استعمال نہیں کرے گا۔ صرف 35 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کے تیقن کو لیکر بی جے پی کا ڈھنڈورا میڈیا مودی کی جئے جئے کار کر رہا ہے ۔ جس طرح مغلوں کے کمزور ہونے پر ایسٹ انڈیا کمپنی ہندوستان پر چھا گئی تھی، اسی طرح مودی حکومت جاپانی اداروں کو ملک پر راج کرنے کی دعوت دے رہی ہے۔ کیا یہی دیش بھکتی ہے جس کا آر ایس ایس پرچار کرتی ہے۔ مودی کے 100 دن پر بھی میڈیا اور سیاسی حلقوں میں مباحث جاری ہیں۔ حکومت 100 دنوں کو کامیاب قرار دے رہی ہے
جبکہ ابھی تک ’’ اچھے دن‘‘ کا آغاز نہیں ہوا۔ مودی نے عوام سے جو وعدے کئے تھے ، ان میں ایک بھی وعدہ کی تکمیل نہیں ہوسکی۔ مہنگائی ، عوامی بنیادی سہولتوں کی محرومی اور دیگر مسائل جوں کے توں برقرار ہیں۔ 100 دن کی حکمرانی میں ملک کے مختلف حصوں میں پیش آئے فسادات خود حکومت کو منہ چڑا رہے ہیں۔ 100 دن میں حکومت کی خارجہ پالیسی ناکام ثابت ہوئی۔ حلف برداری میں نواز شریف شریک ہوئے لیکن بات چیت تعطل کا شکار ہوگئی ۔ عوام کو خوش کرنے کیلئے جن دھن اسکیم کے نام پر ایک لالی پاپ دیدیا گیا ہے۔ اس اسکیم پر عمل آوری کے بارے میں معاشی ماہرین کو کئی شبہات ہیں۔ نریندر مودی نے جاپان میں بانسری اور ڈرم بجاکر اپنے فن کا مظاہرہ کیا جسے 100 دن کی کامیابی کا جشن بھی کہا جارہا ہے۔ ہندوستان میں عوام مسائل سے گھرے ہیں تو پھر مودی کس خوشی میں بانسری بجا رہے تھے۔ کہیں یہ روم کے شہنشاہ نیرو کی مماثلت تو نہیں۔ نریندر مودی نے لال قلعہ سے 10 سال تک کے لئے فرقہ پرستی اور نفرت کی سیاست کو ترک کرنے کا مشورہ دیا تھا لیکن پارٹی اور سنگھ پریوار کے قائدین پر کوئی لگام نہیں ہے۔ اشوک سنگھل ، پروین توگاڑیہ اور مہینت ادتیہ ناتھ جیسے قائدین کی زہر افشانی کا سلسلہ جاری ہے۔ مہینت ادتیہ ناتھ نے تو مسلم آبادی والے علاقوں میں دیگر مذاہب کو غیر محفوظ قرار دیدیا ۔مودی نے کسی لغزش پر وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کے فرزند کی سرزنش تو کی لیکن سماج میں نفرت اور تفرقہ کا بیج بونے والوں کو کھلی چھوٹ دی گئی ہے۔ یہی ہے مودی حکومت کے 100 دن کے کارنامے۔ منور رانا نے کہا ؎
عادتیں اب بھی ہیں اس کی وہی پہلے جیسی
صرف کپڑے وہ شریفوں کے پہن آیا ہے