ظہیر آباد کے کانگریس اقلیتی قائدین مستعفی

ظہیر آباد 11 اپریل ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)کانگریس کے سینئر اقلیتی قائدین غوث الدین غوری ،سید علی اکبر،سید محی الدین ،گورے میاں سکندر اور امان اللہ نے سابق ریاستی وزیر محمد فرد الدین کو حلقہ لوک سبھا ظہیر آباد سے پارٹی امیدوار بنانے کا تیقن دینے کے باوجود عین وقت پر موجودہ رکن پارلیمنٹ کو ہی دوبارہ امیدوار بنانے کے ہائی کمان کے فیصلہ کے خلاف بطور احتجاج کانگریس پارٹی سے مستعفی ہوکر ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی ۔ ان قائدین نے اپنے ایک صحافتی بیان میں حالیہ مجالس مقامی کے انتخابات میں مسلم اکثریتی حلقہ جات کو ایس سی اور ایس ٹی کے علاوہ خواتین کیلئے مختص کرواکر دانستہ طور پر مسلمانوں کی نمائندگی کو کم کرنے کا مقامی رکن اسمبلی و سابق ریاستی وزیر پر الزام عائد کیا ۔ ان قائدین نے حلقہ اسمبلی ظہیر آباد کے چار منڈلوں اور ظہیر آباد ٹاون کے تنظیمی عہدوں پر کسی مسلمان کا تقرر عمل نہ لانے کا بھی الزام عائد کیا۔ ان قئدین نے اپنے پنچسالہ دو وزارت میں پارٹی سے عوام خاص کر اقلیتوں کو جوڑنے اور انہیں روزگار سے مربوط کرنے میں بھی کوئی دلچسپی نہ لینے پر مقامی رکن اسمبلی کو اپنی تنقید کا نشانہ بنایا ان قائدین نے دو مرتبہ حلقہ اسمبلی ظہیر آباد سے منتخب ہوکر ریاستی وزیر کی حیثیت سے نمایںا خدمات انجام دینے کا ریکارڈ رکھنے والے محمد فرید الدین کے ساتھ معاندانہ رویہ اختیار کرنے اور ان کی سیاسی ساکھ کو متاثر کرنے کا بھی مقامی رکن اسمبلی پر الزام لگایا ۔ ان قائدین نے کہا کہ ان کی خواہش پر کل یہاں شٹکار فنکشن ہال میںٹی آ رایس کے سرکردہ قائدین سید منیر الدین،گاونی شیو کمار ،لکشما ریڈی، محمد یعقوب ، نرسمہواں ریڈی اور دیگر کی موجودگی میں حلقہ اسمبلی ظہیر آباد کے ٹی آر ایس کے امیدوار کے تک راو نے انہیں پارٹی کا کھنڈوا پہنا کر پارٹی میں شامل کرلیا۔