ظہیر آباد میں انتخابی ماحول گرم

ظہیر آباد 21 مارچ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)نئی ریاست تلنگانہ کے قیام کے یوم تاسیس سے قبل یکے بعد دیگرے منعقد ہونے والے مجالس مقامی کے علاوہ اسمبلی و پارلیمنٹ کے عام انتخابات نے انتخابی ماحول کو گرم بنادیا ہے۔ جن کی تمازک سے حلقہ اسمبلی ظہیر آباد بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا ہے ۔ یہ پہلا موقع ہے کہ حلقہ اسمبلی ظہیر آباد کے منڈل سطح کے رائے دہندگان آئندہ 40 دنوں کے دوران اپنے ووٹ کا چار مرتبہ جبکہ بلدی سطح کے رائے دہندگان تین مرتبہ اپنے ووٹ کا استعمال کریں گے۔ منڈلوں کے رائے دہندگان 6 اپریل کو منعقد شدنی منڈل پریشد اور ضلع پریشد کے انتخابات کے موقع پر اپنا ایک ووٹ منڈل پریشد کے امیدوار کے حق می تو دوسرا ووٹ ضلع پریشد کے امیدوار کے حق میں استعمال کریں گے جبکہ 30 اپریل کو منعقد شدنی عام انتخابا کے موقع پر اپنا ایک ووٹ اسمبلی کے امیدوار کے حق میں تو دوسرا ووٹ پارلیمنٹ کے امیدوار کے حق میں استعمال کریں گے۔ اس کے بر خلاف بلدیہ ظہیر آباد کے رائے دہندگان 30 مارچ کو منعقد شدنی بلدی انتخابات کے موقع پر صرف ایک مرتبہ اپنا حق رائے دہی کا 24 رکنی بلدیہ کے ارکین کو منتخب کرنے کیلئے استعمال کریں گے جبکہ 30 اپریل کو منعقد ہونے والے عام انتخابات کے موقع پر اپنا ایک ووٹ اسمبلی کے امیدوار کو تو دوسرا ووٹ پارلیمنٹ کے امیدوار کو دیں گے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بے جانہ ہوگا کہ قلیل مدت کے دوران حلقہ اسمبلی ظہیر آباد میں منعقد شدنی انتخابات پر ملک اور ریاست میں تیزی سے بدلتے ہوئے سیاسی حالات اثر انداز ہوتے ہوئے صاف دکھائی دے رہے ہیں۔

حلقہ اسمبلی ظہیر آباد و حلقہ پارلیمان ظہیر آباد کا اگرچیکہ انتخابی منظر نامہ ابھی تک واضع نہیں ہوسکا ہے لیکن آثار قرائن سے یہ پتہ چلتا ہے کہ مذکورہ دونوں حلقوں سے پارٹی امیدوار کی کامیابی کو یقینی بنانے کیلئے تلنگانہ راشٹرا سمیتی اپنی انتخابی حکمت عملی کو قطعیت دینے میں مصروف ہوگئی ہے۔ بہر حال پارٹی اساس پر منعقد ہونے والے مجالس مقامی کے انتخابات کے نتائج سیاسی جماعتوں کی عوامی مقبولیت کی درجہ بندی کرنے میں معاون ثابت ہوں گے اور یہ واضح پیغام بھی دیں گے کہ 30 اپریل کو منعقد شدنی اسمبلی و پارلیمنٹ کے انتخابات میں کس پارٹی کے امیدوار کی کامیابی یقینی ہے۔