اندرون 10 ماہ حکومت کو رپورٹ کی پیشکشی، بلدی اجلاس میں انکشاف
ظہیرآباد۔ 19 اپریل (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) میونسپلٹی ظہیرآباد میں ماسٹر پلان کی تیاری کے کام کا آغاز عمل میں آیا ہے جس کی رپورٹ اندرون 10 ماہ مکمل کرکے ریاستی حکومت کو پیش کردی جائے گی جبکہ ماسٹر پلان کے نفاذ کے بعد بلدی اُمور ماسٹر پلان کے مطابق انجام دیئے جائیں گے۔ اس بات کا انکشاف ڈی ڈی ایف کنسلٹنسی کے ریجنل پلانر جی سندیپ کمار نے آج یہاں میونسپل میٹنگ ہال میں اسی ضمن میں منعقدہ اجلاس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس کی صدارت شبانہ بیگم صدرنشین بلدیہ نے کی۔ انہوں نے مفوضہ کام کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت کی ہدایت پر تلنگانہ کی 20 بلدیات میں ماسٹر پلان کی تیاری کے کام کا آغاز ہوگیا ہے جس میں میونسپلٹی ظہیرآباد بھی شامل ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ بلدیات میں اس سے قبل 1997ء میں ماسٹر پلان کا نفاذ عمل میں لایا گیا تھا جبکہ 20 سال کے اختتام سے قبل 2007ء میں ماسٹر پلان کی تیاری کا کام شروع کیا جانا تھا مگر مرکزی حکومت کی منظوری نہ ملنے کے باعث اس کام کا آغاز نہ ہوسکا۔ انہوں نے کہا کہ ماسٹر پلان کی تیاری کے دوران سب سے پہلے میونسپلٹی کا سرسری طور پر جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس کے بعد ڈاٹا جمع کیا جاتا ہے۔ صنعتوں، دواخانوں، اسکولوں اور دیگر اداروں کی تعداد معلوم کی جاتی ہے۔ اس موقع پر اراکین بلدیہ راج شیکھر، محمد جہانگیر، محمد عبداللہ، طاہرہ بیگم، نریش کمار موجود تھے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بے جا نہ ہوگا کہ ماسٹر پلان کی تیاری سے متعلق جاری سرگرمیوں سے واقف کرانے کے ضمن میں طلب کردہ اس اہم اجلاس میں مذکورہ اراکین بلدیہ کے علاوہ میونسپل کمشنر کے بشمول دیگر بلدی عہدیداران موجود نہیں تھے۔