ظالموں کو یہاں اعزاز دیئے جاتے ہیں

مظفر نگر فسادات کے مقدمات سے دستبرداری
کجریوال کے خلاف بی جے پی کی سازش ناکام

رشیدالدین
عام طور پر انسان ٹھوکر لگنے پر سنبھل جاتا ہے لیکن سیاستداں شائد انسانوں سے جدا ہوتے ہیں اور انہیں کوئی بھی ٹھوکر اثر نہیں کرتی۔ مرکز میں نریندر مودی زیر قیادت بی جے پی حکومت ہو یا اترپردیش میں یوگی ادتیہ ناتھ دونوں بھی اپنی غلطیوں اور عوام کے مخالف فیصلوں سے سبق لینے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ راجستھان ، مدھیہ پردیش اور اترپردیش کے ضمنی چناؤ کی شکست کا کوئی اثر نہیں ہوا یا پھر ناکامیوں کی پردہ پوشی کیلئے خود اعتمادی کا ڈرامہ کیا جارہا ہے ۔ مرکز کی پالیسیوں سے عام آدمی کی زندگی پر جو اثر پڑا ہے ، اس سے انکارنہیں کیا جاسکتا۔ مرکز اور اترپردیش میں حاصل اکثریت نے بھی بی جے پی کے غرور و تکبر میں اضافہ کیا ہے۔ یوگی ادتیہ ناتھ حکومت نے گزشتہ دنوں ایک سال کی تکمیل کا جشن منایا۔ جشن اس لئے بھی پھیکا پڑگیا کیونکہ لوک سبھا کی دو نشستوں کے ضمنی چناؤ میں ادتیہ ناتھ کی مقبولیت کا پول کھل گیا۔ چیف منسٹر اور ڈپٹی چیف منسٹر نے جن لوک سبھا حلقوں کو خالی کیا تھا ، وہاں بی جے پی کو شرمناک شکست ہوئی۔ حکومت کے ایک سال کا جشن سرکاری طور پر منانا کمال کی بات نہیں۔ کارنامہ اور مقبولیت تو اس وقت سمجھے جائیں، جب عوام اپنے طور پر حکومت کے ایک سال کا جشن منائے کیونکہ کسی بھی حکومت کی کارکردگی کے بارے میں بہتر فیصلہ عوام کرسکتے ہیں۔ اترپردیش کے ضمنی چناؤ میں عوام نے اپنا فیصلہ سنادیا ہے۔ عوام کے علاوہ یوگی ادتیہ ناتھ کی حلیف جماعتوں نے بھی خود کو جشن سے دور رکھا۔ یوگی ادتیہ ناتھ نے ضمنی چناؤ کی شکست سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ انہوں نے غلطیوں کو سدھارنے کے بجائے ہندوتوا کے ایجنڈہ پر عمل آوری میں تیزی پیدا کردی ہے۔

مظفر نگر اور شیاملی کے بھیانک فسادات کے ملزمین پر سے مقدمات واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا ۔ مظفر نگر فسادات کے 131 مقدمات کو سیاسی محرکات پر مبنی قرار دیتے ہوئے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ جن ملزمین کے خلاف مقدمات اٹھالئے گئے ، ان میں بی جے پی قائدین بھی شامل ہے۔ پولیس تحقیقات میں فسادات میں ان کا رول ثابت ہوا ہے۔ مرکزی کابینہ اور ریاست میں فسادات کے ملزمین کو اہم عہدوں پر فائز کیا گیا ہے۔ جہاں تک مظفر نگر فسادات کا تعلق ہے، بی جے پی قائدین کے رول سے کون انکار کرسکتا ہے ۔ اقتدار ملتے ہی مقدمات سے دستبردار اور وہ بھی ایک سال کی تکمیل پر یوگی حکومت کا یہ تحفہ ہے۔ ملزمین کو سزا یا برأت عدالت سے ہونی چاہئے ۔ اگر سیاسی نوعیت کے مقدمات درج کئے گئے، تو عدالت میں اس کا ثبوت پیش ہونا چاہئے ۔ بجائے اس کے کہ حکومت مقدمات سے دستبرداری اختیار کرلے۔ اگر ملزمین کے ساتھ حکومت کی یہ نرمی اور مہربانی رہے گی تو مجرمین کے حوصلے ضرور بلند ہوں گے۔ ادتیہ ناتھ حکومت نے غلط روایت قائم کی ہے اور کل آنے والی دوسری سرکار اپنے حامیوں کے خلاف مقدمات واپس لے تو پھر لاء اینڈ آرڈر باقی کہاں رہے گا۔ عوامی مسائل پر احتجاج کے دوران درج مقدمات کو سیاسی کہا جاتا ہے لیکن قتل و غارت گری کے مقدمات کو کس طرح سیاسی کہا جائے گا۔ ویسے بھی زعفرانی تنظیموں کے عناصر کو ملک بھر میں کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے۔ اترپردیش میں جب سے یوگی سرکار نے اقتدار سنبھالا ، امن و ضبط کی صورتحال ابتر ہوچکی ہے۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یوگی 2019 ء کیلئے سنگھ پریوار کی فوج ابھی سے تیار کر رہے ہیں۔ ویسے بھی مسلمانوں کے خون کی ہولی کھیلنے والوں کو بی جے پی کی سرپرستی کوئی نئی بات نہیں۔اترپردیش میں گائے کے نام پر اخلاق کا قتل کیا گیا لیکن قاتل آزاد گھوم رہے ہیں۔ پولیس کے ذریعہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ اخلاق کے گھر میں گائے کا گوشت تھا۔ گجرات فسادات کے ملزمین کو سزا آج تک نہیں ملی ، پھر کس طرح مظفر نگر کے دنگائیوں کو سزا ملے گی ۔ نریندر مودی اور امیت شاہ کے دامن پر گجرات کے مظلوموں کے خون کے دھبے شائد ہی کبھی دھل پائیں۔ آج تک بھی وزیراعظم اور بی جے پی صدر کو گجرات فسادات کا کوئی افسوس نہیں ہے۔ نریندر مودی نے گجرات کے معصوم اور بے گناہوں کی ہلاکتوںکو کار کے نیچے کتے کے بچے کی موت سے تقابل کرتے ہوئے متاثرین کے زخموں پر نمک چھڑکنے کا کام کیا تھا ۔ بابری مسجد کی شہادت سے لیکر آج تک مسلم کش فسادات کے کتنے ملزمین کو سزا دی گئی۔ کہیں کھل کر تو کہیں ثبوتوں کو مٹاکر ملزمین کو بری کیا جارہا ہے۔ یوگی ادتیہ ناتھ اس فیصلہ پر سنگھ پریوار کیلئے راحت کا باعث ضرور ہوں گے لیکن مظفر نگر کے مظلومین کا خون رائیگاں نہیں جائے گا ۔ اسی دوران جھارکھنڈ میں گاؤ رکھشکوں کے بھیس میں دہشت گردوں کے حملہ میں ہلاک علیم الدین انصاری کے مقدمہ میں رام گڑھ کی مقامی عدالت نے بروقت فیصلہ سنایا ہے۔ جون 2017 ء کو گاؤ دہشت گردوں نے علیم الدین انصاری کو برسر عام مار مار کر ہلاک کردیا تھا ۔ واقعہ کے 9 ماہ بعد عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے 11 ملزمین کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ اگرچہ ملک میں گاؤ رکھشا کے نام پر ہلاکتوں کے کئی واقعات رونما ہوچکے ہیں لیکن شاید یہ پہلا موقع ہے جب کسی عدالت نے ملزمین کو سزا سنائی ہے۔ کئی واقعات حکومت اور پولیس کی غفلت اور حملہ آوروں سے ہمدردی کا شکار ہوگئے تو بعض واقعات عدالتوںکی فائلوں میں دب چکے ہیں۔ عدالتوں میں مقدمات کی کثرت کے بہانے کئی اہم مقدمات کی سماعت سے گریز کیا جارہا ہے ۔ جھارکھنڈ کی عدالت نے کم از کم مظلوم خاندان کے ساتھ انصاف کیا ہے۔ ہندوستانی عدلیہ آزاد اور غیر جانبدار ہے جس کا ثبوت جھارکھنڈ کی عدالت کا فیصلہ ہے۔ جمہوریت کے تحفظ کیلئے فی زمانہ عدلیہ آخری امید سے کم نہیں۔

بی جے پی نے دہلی میں قدم جمانے کیلئے عام آدمی حکومت کو کمزور کرنے کیلئے کوئی بھی موقع اور حربہ نہیں چھوڑا۔ حکومت کی کارکردگی متاثر کرنے کیلئے آئی اے ایس عہدیداروں اور چیف منسٹر میں ٹکراؤ کی صورتحال پیدا کی گئی۔ اروند کجریوال اور ان کے ساتھی چونکہ عملی سیاست میں ناتجربہ کار ہیں، اس کا فائدہ اٹھاکر بی جے پی نے عام آدمی پارٹی حکومت کو زوال سے دوچار کرنے کی سازش تیار کی تھی جس کے تحت کجریوال کے 20 ارکان اسمبلی کو صدر جمہوریہ کے ذریعہ نااہل قرار دیا گیا۔ دہلی ہائی کورٹ نے تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے عام آدمی پارٹی کے 20 ارکان کی رکنیت کو بحال کردیا اور ریمارک کیا کہ الیکشن کمیشن نے ارکان اسمبلی کو نااہل قرار دینے سے قبل ان کی سماعت تک نہیں کی۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ بی جے پی نے الیکشن کمیشن کو عام آدمی پارٹی کے خلاف استعمال کرتے ہوئے حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی تھی ۔

الیکشن کمیشن نے 19 جنوری کو ارکان اسمبلی کو نااہل قرار دینے کی سفارش کی تھی جسے صدر جمہوریہ نے منظوری دے دی ۔ ’’آفس آف پروفٹ ‘‘کے نام پر 20 ارکان اسمبلی کو نااہل قرار دینے کے فیصلہ سے صدر جمہوریہ کے دفتر پر بھی انگلیاں اٹھ رہی ہیں۔ ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کو دوبارہ ارکان اسمبلی کی سماعت کی ہدایت دیتے ہوئے دستور اور قانون کی بالادستی کو برقرار رکھا ہے۔ دہلی ہائیکورٹ کا فیصلہ بی جے پی کیلئے یقیناً ایک دھکہ ہے ۔ دوسری طرف بی جے پی پارلیمنٹ میں تحریک عدم اعتماد کا سامنا کرنے سے خوفزدہ ہے۔ تلگو دیشم اور وائی ایس آر کانگریس پارٹی نے مرکز کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی ہے۔ ٹی آر ایس اور آل انڈیا انا ڈی ایم کے کو استعمال کرتے ہوئے بی جے پی پارلیمنٹ میں تحریک عدم اعتماد کو روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔ پارلیمنٹ کا دوسرا مرحلہ تعطل کا شکار ہے اور ایک دن بھی کارروائی انجام نہیں دی گئی۔ دونوں ایوانوں میں اپوزیشن مختلف موضوعات پر احتجاج کر رہے ہیں۔ جہاں تک بینک گھوٹالوں کا سوال ہے ، حکومت کو مباحث کیلئے آمادہ ہونا چاہئے ۔ نریندر مودی حکومت نیرو مودی ، للت مودی اور وجئے مالیا کی ہندوستان واپسی کے بارے میں کچھ بھی کہنے سے قاصر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اسکام پر مباحث نہیں چاہتیں۔ پارلیمنٹ میں واضح اکثریت کے باوجود بی جے پی تحریک عدم اعتماد کا سامنا کرنے سے خوفزدہ ہے۔ دراصل اسے اندیشہ ہے کہ تحریک پر مباحث کے دوران گزشتہ چار برسوں کی ناکامیوں کا تذکرہ ہوگا اور عوام میں حکومت بے نقاب ہوگی۔ تلگو دیشم پارٹی جو این ڈی اے میں شامل تھی ، اس نے 4 سال بعد بی جے پی سے دوستی ختم کرلی ہے ۔ چیف منسٹر آندھراپردیش چندرا بابو نائیڈو کو چار سال بعد یہ اندازہ ہوا کہ بی جے پی فرقہ پرست جماعت ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ چار برسوں تک انہیں بی جے پی کی فرقہ پرستی کا خیال کیوں نہیں آیا۔ مرکزی کابینہ میں تلگو دیشم کے وزراء اور آندھراپردیش کی کابینہ میں بی جے پی کے وزراء شامل تھے۔ اب جبکہ نریندر مودی نے خصوصی موقف کے مطالبہ کو مسترد کردیا ، لہذا چندرا بابو نائیڈو سیکولرازم کا لبادہ اُوڑھ کر عوام کے درمیان آرہے ہیں۔ آندھراپردیش میں وائی ایس آر کانگریس پا رٹی کے سربراہ جگن موہن ریڈی کی پد یاترا نے نائیڈو کے ہوش اڑادیئے ہیں۔ جس طرح جگن کی مقبولیت میں اضافہ ہورہا ہے ، اس سے خوف زدہ نائیڈو نے بی جے پی سے علحدگی اختیار کرلی اور جگن کے خوف نے انہیں سیکولر بنادیا ہے۔ پارلیمنٹ کی صورتحال سے تحریک عدم اعتماد پر مباحث کے امکانات دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔ مظفر نگر فسادات کے مقدمات سے دستبرداری کے فیصلہ پر راحت اندوری کا یہ شعر صادق آتا ہے ؎
ظالموں کو یہاں اعزاز دیئے جاتے ہیں
اور مظلوم کو تھانے میں رکھا جاتا ہے