بیدر۔22اگست ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ریاستی وزیر برائے پرائمری و سکنڈری تعلیم کے رتناکر نے کہا کہ زیادہ عرصہ سے ایک ہی مقام پرخدمات انجام دے رہے بی ای او اور ڈی ڈی پی آئی کے فوری تبادلے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں یہ اطلاع ملی ہے کہ چند مقامات پر پچھلے کئی سالوں سے بلاک ایجوکیشن افسران اور ڈپٹی ڈائرکٹرس برائے تعلیمات عامہ ایک ہی مقام پر رہ کر اپنی جڑیں کافی مضبوط کرلئے ہیں اور اساتذہ کو ان کی پسند کی سہولتیں فراہمکرنے کیلئے ان سے بھاری رقم کا مطالبہ کرتے ہیں ‘ ورنہ انہیں تکلیف دے رہے ہیں ۔ اس طرح سکریٹریٹ میں کئی ملازمین پچھلے کئی سالوں سے ایک ہی مقام پر خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ ان تمام کے تبادلے کرنے کا حکومت نے فیصلہ کیا ہے ۔ جن مقامات پر ڈی ڈی پی آئی 2سال سے زیادہ اور بی ای او 3سال سے زیادہ ٹکے ہوئے ہیں ان تمام کو دوسری جگہ تبادلہ کیا جائے گا ۔ اس ضمن میں تبادلوں کا ایک قانون مرتب کر کے اس پر کابینہ کی منظوری حاصل کر کے ان افسروں کے تبادلے کئے جائیں گے ۔ آج یہاں سکھشنا سدن میں کرناٹک اسٹیٹ امدادی اسکولوں اور کالجوں کے ملازمین اسوسی ایشن اور سی بی ایس نصاب اساتذہ کے زیراہتمام منعقدہ اجلاس کا افتتاح کرنے کے بعد انہوں نے ان خیالات کا اظہار کیا ۔ وزیر موصوف نے کہا کہ سرکاری امدادی اسکولوں کے اساتذہ کی مانگوں پر سنجیدہ غور کیا جائے گا ۔ ان اساتذہ کی تنخواہ سے متعلق ایک کمیٹی بھی تشکیل دی جاچکی ہے ۔ اس کمیٹی کی رپورٹ کا انتظار ہے ۔ کمیٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر تنخواہ میں اضافہ سے متعلق کیا جائے گا جس کیلئے 600 تا 1400 کروڑ روپئے درکار ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ریاست 6کروڑ 11لاکھ آبادی میں سے ایک کروڑ چار لاکھ بچوں کی تعداد ہے ان میں سے پچاس فیصد کا تعلق محکمہ تعلیم سے ہے ۔ اس ریاست میں کوئی بھی حادثہ ہو اس کا تعلق محکمہ تعلیم سے ہی رہتا ہے ۔
وزیر موصوف نے بتایا کہ ہر دن ہمارے محکمہ سے کوئی نہ کوئی ایک واقعہ منسلک رہتا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ تعلیم کو ماہانہ صرف 55کروڑ روپئے امداد ہے جس میں سے 30 سے 35کروڑ روپئے اساتذہ کی تنخواہ پر خرچ ہوتے ہیں ۔ مسٹر رتناکر نے بتایا کہ اس مرتبہ ریاستی وزیر اعلیٰ نے محکمہ تعلیم کیلئے ایک ہزار کروڑ روپئے اضافہ بجٹ مختص کیا ہے جن میں سے چار سو کروڑ روپئے کشور بھاگیہ اسکیم کیلئے ضرورت ہے جبکہ 308 امدادی اسکولوں کیلئے 250کرور چاہیئے اور 80کروڑ روپئے بی ایڈ اساتذہ کی تنخواہ پر خرچ ہوتے ہیں۔ باقی رقم مختلف اسکیموں پر خرچ کی جاتی ہے ۔ تعلیم کے میدان میں ان دنوں بدلتے ہوئے حالات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ ان دنوں فرضی اساتذہ کی حرکتوں سے تعلیمی میدان بدنام ہورہا ہے اور فرضی اساتذہ کی حرکتوں سے لوگوں کی نظر میں اساتذہ کا جو مقام اور عزت تھی اور گرگئی ہے اور اساتدہ برادری کافی بدنام ہورہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ فرضی اساتذہ کی روک تھام کیلئے اسکولوں میں کئی احتیاطی اور حفاظتی اقدامات بیحد ضروریہے ۔ جیسے سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنا ‘ سیکیورٹی کا معقول بندوبست ‘ اساتذہ پر اسکولوں اور کالجوں کے سربراہ کی کڑی نظر وغیرہ ۔