طویل ترین مقابلہ میں کامیابی پر بیحد مسرور ہوں: شاراپووا

پیرس۔ 8؍جون (سیاست ڈاٹ کام)۔ ماریا شاراپووا نے فرنچ اوپن فائنل جیتنے کے بعد کہا کہ وہ تین گھنٹے طویل کھیل کے لئے تیار تھیں اور وہ اپنی حریف کے ساتھ سخت مقابلہ کا تہیہ کرچکی تھیں۔ انھوں نے کل رومانیہ کی سمونا ہیلپ کر ہراکر دوسری بار فرنچ اوپن جیت لیا تھا۔ روس سے تعلق رکھنے والی27 سالہ شاراپووا نے 6-4، 6-7(5)، 6-4 سے مقابلہ جیتا۔ اس مقابلہ کی خصوصی یہ تھی کہ پیرس میں 1996ء کے بعد پہلی مرتبہ تین گھنٹے طویل میچ کھیلا گیا۔ اس سے پہلے اسٹیفی گراف نے تین گھنٹے اور چار منٹ کے مقابلہ میں ارانکزا کو ہرایا تھا۔ ماریا شاراپووا کے لئے یہ کامیابی اس لئے بھی اہم رہی کہ گزشتہ سیزن میں وہ کندھوں کے زخم کی وجہ سے تمام مقابلوں میں شریک نہیں ہوسکی تھیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ مقابلہ تین گھنٹے جاری رہا، لیکن وہ اس کے لئے پوری طرح تیار تھیں۔

شاراپووا نے کہا کہ یہ ان کے لئے انتہائی اہم اور جذباتی کامیابی رہی۔ یہ مقابلہ بہت سخت تھا، لیکن کامیابی نے انھیں خوشی و مسرت کا احساس دلایا ہے۔ واضح رہے کہ ماریا شاراپووا نے اب تک پانچ مرتبہ گرینڈ سلام ٹائٹل جیت چکی ہیں۔ شاراپووا پہلی بار 2004ء میں ویمبلڈن چمپئن بنی تھیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے 2006ء میں یو ایس اوپن اور 2008ء میں آسٹریلین اوپن جیت چکی ہیں۔ شاراپووا نے دو بار فرنچ اوپن ٹائٹل بھی حاصل کیا ہے۔ رومانیہ کی سمونا فرنچ اوپن میں انتہائی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی تھیں اور فائنل تک پہنچنے میں ایک سیٹ بھی نہیں ہاری تھیں۔ ماریا شاراپووا اور سمونا ہیلپ کے مابین میچ تین گھنٹے دو منٹ تک جاری رہا۔ فتح کے بعد ماریا شاراپووا نے کہا کہ یہ ان کی زندگی کا سب سے مشکل ترین گرینڈ سلام تھا جو وہ جیتنے میں کامیاب رہی ہیں۔