طوطے میاں کی فکر اور پریشانی …!!

ندی کے کنارے سرسوں کے کھیت میں پیلے پھولوں کی ایک چادر سی بچھی ہوئی تھی۔ کھیت کے بیچ میں ایک طوطا کمر کے بل لیٹا ہوا نیلے آسمان پر اْڑتے ہوئے بادلوں کو غور سے دیکھ رہا تھا۔ طوطے کی آنکھوں میں بہت فکر اور پریشانی نظر آرہی تھی۔
طوطے کے پیر آسمان کی طرف اْٹھے ہوئے تھے۔ ایک کسان ادھر سے گزرا اور جب اس کی نظر افسردہ طوطے پر پڑی تو طوطے سے پوچھا: ’’ طوطے میاں ! خیریت تو ہو، آج آپ کافی پریشان لگ رہے ہو؟ ‘‘ طوطے نے کہا: ’’ ارے کسان بھائی! کیا بتاؤں ؟ بری خبر ہے۔‘‘کسان نے پوچھا:’’ خیر تو ہے ؟ ‘‘ طوطے نے کہا: ’’ ارے کہاں خیر ہے۔ اُلّوبھائی نے مجھے خبر دی ہے کہ آسمان گرنے والا ہے۔‘‘ کسان مسکرایا اور پوچھا: ’’ اچھا تو جناب ! کیا آسمان کو پیروں سے روک لیں گے جو اس طرح ٹانگیں اوپر کی طرف اْٹھائے ہوئے ہو؟ ‘‘ طوطے نے سنجیدگی سے جواب دیا: ’’ بھائی یہ درست ہے کہ میں آسمان کو اپنے پیروں پر نہیں روک سکتا، لیکن میرا خیال ہے کہ جب بھی کوئی مشکل وقت آئے تو کم سے کم ہر کسی کو اتنی کوشش کرنی چاہئے جتنی اس کے بس میں ہو۔‘‘