رشیدالدین
مسلمانوں نے جب سے سرگرم سیاست کا میدان چھوڑدیا، انہیں روزانہ نت نئے مسائل اور چیالنجس کا سامنا ہے۔ سیاسی طاقت ہی اقتدار،حکومتوں اور سیاسی جماعتوں کو جھکنے پر مجبور کرتی ہے ورنہ ووٹ بینک کی سیاست کے تحت وقتی طور پر ہمدردی کرتے ہوئے زخموں پر مرہم رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ وقت آچکا ہے کہ مسلمان طئے کریں کہ انہیں حکومتوں اور سیاسی جماعتوں کے رحم و کرم پر رہنا ہے یا پھر ملک کے حقیقی بادشاہ گر کا رول ادا کرنا ہے ؟ اگر ہم اپنی طاقت اور اہمیت کا اندازہ کریں تو پھر کوئی طاقت بھی حاوی نہیں ہوگی۔ ’’تو خود تقدیر یزداں کیوں نہیں ہے‘‘ کے مصداق ہمیں اپنے مقدر کے فیصلے لکھنے کی طاقت پیدا کرنی ہوگی۔ ملک کی سب سے بڑی اقلیت اور دوسری بڑی اکثریت اگر سیاسی طور پر جاگ اٹھے تو ملک کا کوئی بھی پالیسی فیصلہ ان کی مرضی کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ گزشتہ دو دہائیوں میں جب سے ملک میں جارحانہ فرقہ پرست طاقتوں نے سر ابھارنے کی کوشش کی ہے اور ریاستوں سے لیکر مرکز تک انہیں اقتدار حاصل ہوا تو مسلمانوں کیلئے نت نئے چیالنجس پیدا ہوئے اور روز کسی نہ کسی امتحان سے گزرنا پڑ رہا ہے۔ ملی تشخص کو ختم کرنے کی سازشوں سے شروع ہوا یہ کھیل شریعت میں مداخلت تک آ پہنچا ۔ مسلمانوں میں دوسرے درجہ کے شہری کا احساس پیدا کرتے ہوئے حوصلے پست کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ زعفرانی بریگیڈ حلال چیزوں کو حرام قرار دینے پر مصر ہے۔ ہمیں کیا کھانا ہے اور کیا نہیں اس کا فیصلہ بھی وہی کرنا چاہتے ہیں۔ عبادت کس طرح اور کہاں ہو ، اس پر بھی اعتراضات ، نماز کی سڑکوں پر ادائیگی اور لاؤڈ اسپیکر پر اذان بھی ان کے کانوں کو گراں گزرنے لگی ہیں۔ حتیٰ کہ یہاں تک کہہ دیا گیا کہ ہندوستان صرف ہندوؤں کا ملک ہے۔ مسلمان کے خون کی کوئی اہمیت نہیں رہی۔ لو جہاد اور گاؤ رکھشا کے نام پر کھلے عام خون بہایا گیا اور یہ سلسلہ ابھی بھی جاری ہے۔ شریعت اسلامی کو نشانہ بناتے ہوئے یکساں سیول کوڈ کا نفاذ اور ہندو راشٹر کا قیام آخری منزل ہے۔ ان تمام مسائل کی اہم وجہ سرگرم سیاست سے ہماری دوری ہے ۔
اگر آج مسلمان سیاسی طاقت ہوتے تو کس کی مجال تھی کہ پارلیمنٹ میں مخالف شریعت بل پیش کریں۔ پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں مسلمانوں کی نمائندگی برائے نام ہوچکی ہے۔ جب سے طاقت بکھر گئی ہم کو مسائل کے حل کیلئے دوسروں پر انحصار کرنا پڑا۔ سیاسی جماعتوں اور حکومت سے امیدیں وابستہ کرتے ہوئے ان کی صوابدید کے منتظر بن چکے ہیں۔ سیاسی طاقت کیا کمزور ہوئی ، ہر کوئی ہمدردی کا ڈھونگ رچا رہا ہے اور نام نہاد سیکولر جماعتیں بھی ووٹ حاصل کرنے کی حد تک مسلمانوں سے کے ساتھ کھڑی دکھائی دے رہی ہے۔ ہمدردی کی اصلیت تو طلاق ثلاثہ بل پر پارلیمنٹ میں بے نقاب ہوگئی۔ خودکو مسلمانوں کے واحد مسیحا اور ہمدرد ظاہر کرنے والے بھی دہرے معیارات کے ساتھ چہرے پر دہرا نقاب اوڑھے دکھائی دیئے۔ لوک سبھا میں جن پارٹیوں نے بل کی تائید کی راجیہ سبھا میں وہ مخالفت میں کھڑے رہے۔ بل تو وہی تھا ، اس میں شامل نکات بھی وہی تھے لیکن لوک سبھا میں تائید اور راجیہ سبھا میں مخالفت ناقابل فہم ہے۔ کیا سیکولر جماعتوںکو بل کی خامیوں کا ادراک ہونے میں تاخیر ہوئی ہے؟ سیاسی جماعتیں لاکھ سیکولر ہونے کا دعویٰ کرلیں لیکن نرم ہندوتوا کی پالیسی کو مخفی رکھے ہوئے ہیں۔ گجرات کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی سے مقابلہ کے لئے کانگریس نے نرم ہندوتوا کی پالیسی کو اختیار کرتے ہوئے انتخابی ریالیوں سے زیادہ مندروں کے درشن کئے ۔ 25 سے زائد مندروں کے درشن کے بعد راہول گاندھی کے کٹر برہمن ہونے کی خوب تشہیر کی گئی۔ دراصل کوئی سیاسی پارٹی ہو وقتی فائدہ اس کی ترجیح ہوتی ہے۔ طلاق ثلاثہ بل کے مسئلہ پر بی جے پی نے عددی طاقت کی بنیاد پر لوک سبھا میں ہندو کارڈ کھیلا اور اپنے ووٹ بینک کو مضبوط کرلیا تو دوسری طرف کانگریس نے راجیہ سبھا میں مسلم کارڈ کھیل کر مسلمانوں کا دل جیتنے کی کوشش کی ہے۔ کہیں یہ مذہبی سیاست کے نام پر میچ فکسنگ تو نہیں کہ ہم لوک سبھا اور تم راجیہ سبھا میں اپنے ووٹ بینک کو مضبوط کرلیں۔کانگریس اگر واقعی مسلمانوں کی ہمدرد ہے تو پھر اس نے اپنے رکن مولانا اسرار الحق کو مباحث میں حصہ لینے کی اجازت کیوں نہیں دی اور مولانا نے پارٹی ناراضگی سے بچنے کیلئے ووٹنگ میں حصہ لئے بغیر ایوان سے باہر رہنے میں عافیت محسوس کی۔ جس طرح راجیہ سبھا میں اہم اپوزیشن اور بی جے پی کی بعض حلیف جماعتیں بل کو سلیکٹ کمیٹی سے رجوع کرنے پر اٹل تھیں تو یہ کام لوک سبھا میں بھی کیا جاسکتا تھا لیکن وہاں تو بل کی کامیابی میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں کی گئی۔ ظاہر ہے کہ جس کو جتنی ضرورت ہے اس نے اسی انداز میں مسلمانوں سے ہمدردی کا اظہار کیا اور بڑی جماعتوں نے دونوں ایوانوں میں کامیاب سیاسی چال چلی۔ راجیہ سبھا میں طلاق ثلاثہ بل کی مخالفت کرنے میں کانگریس کے علاوہ ترنمول کانگریس، سماج وادی پارٹی ، بی ایس پی ، ڈی ایم کے ، این سی پی ، سی پی آئی ، سی پی ایم ، آر جے ڈی ، جے ایم ایم اور مسلم لیگ شامل تھے۔ بی جے پی کی حلیف جماعتوں میں تلگو دیشم ، بیجو جنتا دل اور انا ڈی ایم کے نے بل کو سلیکٹ کمیٹی سے رجوع کرنے کا مطالبہ کیا۔ تلنگانہ کی برسر اقتدار ٹی آر ایس دونوں ایوانوں میں غیر جانبدار رہی۔ مرکزی حکومت راجیہ سبھا میں اکثریت سے محرومی کے سبب بل پاس کرنے میں ناکام رہی ہے ۔ دو دن کی کوششوں کے بعد حکومت نے کسی ہزیمت سے بچنے کیلئے بل کو آئندہ کیلئے ٹال دیا۔ پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس ختم ہوا اور جاریہ ماہ کے اواخر میں بجٹ سیشن کا آغاز ہوگا۔ ہوسکتا ہے کہ حکومت نے طلاق ثلاثہ کو آرڈیننس کے ذریعہ قانونی شکل دیدے، جس کی مدت 6 ماہ ہوتی ہے۔ حکومت کو ہر چھ ماہ میں آرڈیننس میں توسیع کا اختیار حاصل ہے۔ بی جے پی کو دراصل راجیہ سبھا میں اکثریت کا انتظار ہے، اس کیلئے صرف تین ماہ انتظار کرنا پڑے گا۔ آئندہ تین ماہ میں راجیہ سبھا کی 68 نشستوں کیلئے انتخابات ہوں گے اور بی جے پی کو اکثریت کا حصول یقینی ہوچکا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ تین ماہ بعد آرڈیننس کو بل کی شکل میں دوبارہ لوک سبھا سے منظوری حاصل کی جائے گی۔
سیاسی طاقت بننے کیلئے مسلمانوں کو دلت طبقہ سے سبق لینا ہوگا۔ ملک میں ہر پارٹی دلتوں کی خوشنودی میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کر رہی ہے۔ مسلمان نہ صرف سرگرم سیاست سے دور ہیں بلکہ پریشر گروپ بھی نہیں بن سکے۔ اگر وہ پریشر گروپ کی شکل میں ہوتے تو ہر پارٹی پر اثر اندازہوتے۔ دلتوں نے مہاراشٹرا میں گزشتہ دنوں اپنی طاقت کا جو مظاہرہ کیا وہ قابل تقلید ہے۔ ایک دلت کی موت پر مہاراشٹرا بند منایا گیا اور احتجاج کا اثر مہاراشٹرا سے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں دیکھا گیا۔ حکومت نے مہلوک دلت کے خاندان کیلئے 10 لاکھ روپئے کے ایکس گریشیا کا اعلان کیا۔ ایک دلت کی موت پر جب پارلیمنٹ کے دونوں ایوان اور ایک ریاست ہل سکتی ہے تو پھر مسلمانوں کی موت پر سناٹا کیوں ؟ حالیہ عرصہ میں محتلف عنوانات سے 30 سے زائد مسلمانوں کا قتل کیا گیا اور یہ سلسلہ اخلاق سے شروع ہوکر مغربی بنگال کے افروز تک جاری رہا۔ دلت اور دیگر چھوٹے طبقات ملک کی سیاست میں متحرک ہے جبکہ مسلمان صرف شکوے شکایات اور رونے دھونے تک محدود ہوچکے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے پاس مسلمانوں کا وزن محض ووٹ بینک کے سوا کچھ نہیں۔ ہلاکتوں کا مسئلہ ہو یا شریعت کا مسلمان جمہوری انداز میں احتجاج کیلئے بھی آمادہ نہیں اور ان کی قیادت بند کمروں میں احتجاجی قراردادوں کی منظوری تک محدود ہوچکی ہے۔ شمال مشرقی ریاستوں میں آج بھی قبائلیوں کا علحدہ پرسنل لا اور ان کے رسوم و رواج مختلف ہیں اور حکومت ان کے احترام کی پابند ہیں۔ ملک بھر میں گاؤ کشی پر امتناع لیکن میگھالیہ میں سرکاری طور پر گوشت کے استعمال کی اجازت ہے۔ مسلمانوں کا وہ بھی ایک خوشگوار دور رہا جب ہر پارٹی میں ان کی مضبوط نمائندگی اور آواز رہی۔ ڈاکٹر ذاکر حسین سے لیکر آج کے غلام نبی آزاد تک کئی مسلمان ایسے گزرے جو اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز رہے۔ اس تاریخ کو دوبارہ دہرانے کی ضرورت ہے۔ منظر بھوپالی نے کچھ یوں تبصرہ کیا ہے ؎
طاقتیں تمہاری ہیں اور خدا ہمارا ہے
عکس پر نہ اِتراؤ آئینہ ہمارا ہے