ضلع کڑپہ میں کانگریس کیلئے انتخابی امیدواروں کی قلت

وائی ایس آر کانگریس کے مستحکم موقف کے باوجود باغی امیدواروں سے خطرہ

کڑپہ۔/14مارچ، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ریاست کی تقسیم کا سہرا اپنے سر لینے والی کانگریس پارٹی کا ضلع کڑپہ میں بہت برا حال ہے۔ بلدی انتخابات میں کارپوریٹرس اور کونسلرس کیلئے امیدوار نہیں مل رہے ہیں جبکہ وائی ایس آر کانگریس اور تلگودیشم پارٹی میں امیدواروں کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔ ایک ایک وارڈ کیلئے کئی کئی دعویدار ٹکٹوں کیلئے جھگڑ رہے ہیں۔ وائی ایس آر کانگریس پارٹی میں باغی امیدواروں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے کئی مقامات پر سی پی آئی، سی پی ایم، بی جے پی امیدوار پرچہ نامزدگی داخل کئے ہیں جبکہ کانگریس پارٹی کو امیدوار نہیں مل رہے ہیں۔ ضلع کڑپہ میں کہیں بھی کانگریس پارٹی کا جھنڈا نظر نہیں آرہاہے۔ کانگریس پارٹی قائدین تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ کانگریس پارٹی کڑپہ ٹاؤن صدر نظیر باشاہ کو امیدواروں کے انتخاب کی ذمہ داری دی گئی ہے ۔سابق ریاستی وزیر احمد اللہ بھی تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔ پارٹی امیدواروں کی تلاش میں ناکام ہورہے ہیں۔ کانگریس کے کئی قائدین پارٹی چھوڑ کر تلگودیشم یا وائی ایس آر کانگریس میں شامل ہوچکے ہیں۔ ضلع کڑپہ میں کڑپہ کارپوریشن کے علاوہ 7بلدیات کے انتخابات منعقد ہورہے ہیں جن میں سے کڑپہ بلدی کارپوریشن کیلئے پرچہ نامزدگیوں کے ادخال کی تاریخ ختم ہوچکی ہے جبکہ 7بلدیات میں آج پرچہ نامزدگی کے ادخال کا آخری دن ہے۔

کڑپہ بلدی کارپوریشن کے 50ڈیویژن کیلئے جملہ 505 امیدواروں نے اپنے پرچہ نامزدگی داخل کئے جن میں سے کانگریس کی جانب سے صرف 13امیدواروں نے ہی اپنے پرچہ نامزدگی داخل کئے ہیں۔ پراگنٹلہ بلدیہ کے 23وارڈ کونسلروں کیلئے تاحال ایک بھی امیدوار نے کانگریس پارٹی کی جانب سے پرچہ داخل نہیں کیا ہے۔ میدکور اور رائے چوٹی بلدیات میں صرف ایک ایک امیدوار نے کونسلر کیلئے پرچہ نامزدگی داخل کیا ہے۔ کڑپہ کے بعد سب سے بڑے ٹاؤن پروداٹور میں 40کونسلروں کیلئے تاحال صرف دو امیدواروں نے کانگریس پارٹی کی جانب سے پرچہ نامزدگی داخل کئے ہیں۔ بدویل بلدیہ کیلئے بھی صرف دو امیدواروں نے پرچہ نامزدگی داخل کئے ہیں۔ پلی ویندلہ کے 26 بلدی وارڈس سے تاحال صرف 5امیدواروں نے اور جمل مڈگو بلدیہ کے 20وارڈز کیلئے تاحال 5امیدواروں نے پرچہ نامزدگی داخل کئے ہیں۔ ضلع کڑپہ میں 2005ء کے بلدی انتخابات میں سارے ضلع میں کانگریس پارٹی کے چیرمین اور کونسلرس منتخب ہوئے تھے۔ کرپہ بلدی کارپوریشن میں بھی میئر کے علاوہ اکثریت سے کارپوریٹرس کانگریس پارٹی سے منتخب ہوکر ایک ریکارڈ قائم کی تھی۔ آج اسی کانگریس پارٹی کیلئے امیدوار نہیں مل رہے ہیں۔ کوئی بھی امیدوار کانگریس پارٹی کی جانب سے انتخابات میں حصہ لینے تیار نہیں ہے۔ ضلع کے سابق وزراء، ارکان اسمبلی اور ارکان پارلیمان سرگرم کارکن پارٹی میں تماشائی بنے ہوئے ہیں۔