وائی ایس آر کانگریس اور تلگودیشم میں اصل مقابلہ ، بلدیہ کڑپہ کے قیام کے بعد کئی نشیب و فراز
کڑپہ /20 مارچ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) ضلع کڑپہ میں بلدی انتخابات کی مہم عروج پر ہے ۔ کڑپہ بلدی کارپوریشن کے علاوہ دیگر 6 بلدیات پروڈاٹور ، میدکور ، رائے چوٹی ، جمل مڈگ ، پلی ویندولہ ، پراگنٹلہ اور بدویل بلدیات کے انتخابات منعقد ہو رہے ہیں ۔ ضلع میں اصل مقابلہ وائی ایس آر کانگریس پارٹی اور تلگودیشم کے درمیان ہے ۔ گذشتہ دس برسوں تک ریاست میں برسر اقتدار رہی کانگریس پارٹی کو بلدی انتخابات میں امیدواروں کی قلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ دوچار مقامات پر سی پی ایم ، سی پی آئی اور بی جے پی کے امیدوار میدان میں ہیں ۔ بلدیہ کڑپہ ضلع میں قدیم تاریخ کا حامل ہے انگریزوں نے بلدیہ کڑپہ کی 146 سال قبل بنیاد رکھی تھی ۔ 1868 میں بلدیہ کڑپہ کا قیام عمل میں آیا 1980 میں ریاستی حکومت نے بلدیہ کڑپہ کو خصوصی حامل کا گریڈون بلدیہ کا درجہ دیا ۔ آنجہانی چیف منسٹر ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی نے بلدیہ کڑپہ کو 13 نومبر 2004 میں بلدی کارپوریشن کڑپہ میں تبدیل کرنے کیلئے احکامات 481 جاری کئے ۔ بلدیہ کڑپہ کا رقبہ 6.84 کیلومیٹر تھا کارپوریشن کا درجہ دینے کے بعد اسے بڑھاکر 164.08 کیلومیٹر کردیا گیا ۔ بلدی کارپوریشن کڑپہ میں قدیم بلدیہ کڑپہ کے مضافات میں واقع چنہ چوک ، اکایاپلی ، پاتا کڑپہ ، چمبو میان پیٹ ، گوڈور ، راماراجو پلی ، پالیم پلی ، پٹلم پلی ، اوٹلور ، ماملا پلی ، کرشنا پورم اور چنہ ماسوپلی پنچایتوں کو ضم کردیا گیا ۔ اس طرح سے بلدی کارپوریشن کڑپہ کو وسعت دے کر 164.08 کیلومیٹر رقبہ بنایا گیا ۔ 2011 کی مردم شماری کے لحاظ سے بلدی کارپوریشن کڑپہ کی آبادی 3.43 لاکھ ہے ۔ بلدی کارپوریشن کو 50 وارڈوں میں تقسیم کیا گیا ۔ 246 پولنگ کے مراکز قائم کئے گئے 2.71 لاکھ رائے دہندے ہیں جس میں سے 50 فیصد آبادی خواتین پر مشتمل ہے ۔ 1911 کے مردم شماری کے تحت بلدیہ کڑپہ کی کل آبادی 17807 تھی جو آج بڑھ کر 3.43 لاکھ ہوچکی ہے ۔ آنجہانی چیف منسٹر ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی نے ضلع کے 5 بڑے پنچایتوں کو بلدیہ میں تبدیل کرنے کے احکامات جاری کئے ۔
اپنے آبائی پلی ویندولہ پنچایت کو 2005 میں بلدیہ کا درجہ دیا گیا ۔ جس کا رقبہ 87.17 رکھا گیا ۔ 2005 میں رائے چوٹی پنچایت کو بلدیہ کا درجہ دیا گیا ۔ 90814 افراد پر مشتمل بلدیہ رائے چوٹی میں مرد 46229 اور خواتین 44577 شامل ہیں ۔ 31 بلدی وارڈس ہیں ۔ یہاں جملہ رائے دہندوں کی تعداد 62,054 ہے جس میں مرد رائے دہندوں کی تعداد 31,158 اور خواتین رائے دہندوں کی تعداد 30888 ہے ۔ جمل مڈگ پنچایت کو 17 جنوری 2005 کو ریاستی حکومت کے احکامات کے تحت بلدیہ کا درجہ دیا گیا ۔ 4.64 مربع کیلومیٹر پر واقع ہے ۔ جملہ آبادی 46,069 پر مشتمل ہے جس میں 20 بلدی وارڈس بنائے گئے ہیں ۔ دوسری مرتبہ بلدی جمل مڈگ کیلئے انتخاب منعقد ہو رہے ہیں ۔ میدکور پنچایت کو 27 ڈسمبر 2011 میں ریاستی حکومت کے احکامات 576 کے تحت بلدیہ کا درجہ دیا گیا ۔ 39946 افراد پر آبادی مشتمل ہے ۔ 49073 مربع کیلومیٹر پر رقبہ پر مشتمل ہے ۔ 23 بلدیہ وارڈس بنائے گئے ۔ جملہ رائے دہندے 33318 ہیں جن میں 16384 مرد 16933 خواتین رائے دہندے شامل ہیں ۔ یہاں بلدی انتخابات پہلی مرتبہ منعقد ہو رہے ہیں ۔ پرانگٹلہ گرام پنچایت کو ریاستی حکومت نے جون 2012 میں بلدیہ کا درجہ دینے کے احکام جاری کئے ۔ بلدیہ کی جملہ آبادی 32572 افراد پر مشتمل ہے جن میں 23368 رائے دہندے ہیں ۔ 11,428 مرد اور 11,940 خاتون رائے دہندے ہیں ۔ 5.32 مربع کیلومیٹر رقبہ ہے ۔ 20 بلدی وارڈس ہیں یہاں پر پہلی مرتبہ بلدیہ کے انتخابات منعقد ہو رہے ہیں ۔ 15 جون 2006 میں اپارویل پنچایت کو بلدیہ میں تبدیل کرنے ریاستی حکومت نے احکام جاری کئے 42.15 مربع کیلومیٹر رقبہ پر مشتمل ہے ۔ 2011 مردم شماری کے تحت 70945 آبادی ہے ۔ 26 بلدی وارڈس بنائے گئے ہیں ۔ جملہ رائے دہندوں کی تعداد 52401 ہے ۔ ضلع کڑپہ کی دوسری قدیم بلدیہ پروداٹور بلدیہ ہے جسے انگریزوں نے 1915 میں قائم کیا جملہ آبادی 162816 افراد پر مشتمل ہے ۔ 40 بلدی وارڈس ہیں ۔