ضلع نظام آباد کے 6 انجینئیر کالجوں میں داخلے کی عدم اجازت

بودھن /19 اگست ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) اس تعلیمی سال برائے 2014-15 کے دوران ضلع نظام آباد میں واقع دس انجیننئیرنگ کالجس میں آدھے سے زیادہ الجس کو تلنگانہ حکومت نے تجدید روک دی ۔ جس کے باعث اس سال ضلع نظام آباد کے انجینئیرنگ کالجس میں 1500 نشستیں کم ہوگی ۔ پہلے سے ہی امسال انجینیئرنگ کورسیس میں داخلہ کیلئے کونسلنگ کا تاخیر سے آغاز عمل میں آیا ۔ ایسے میں JNTU نے ضلع نظام آباد میں قائم دس انجینئیرنگ کالج میں سے چھ کالجوں کے انتظامیہ کو JNTU کے ضابطوں کی عدم تکمیل پر جاریہ تعلیمی سال ان کالجوں میں طلبہ کو داخلوں کی اجازت دینے سے انکار کردیا ہر سال ضلع نظام آباد کے انجینئیرنگ کالجوں میں تقریباً 3000 طلبہ کو داخلہ حاصل کرنے کی اجازت تھی ۔ گذشتہ پندرہ روز قبل JNTU کے ماہرین کا ایک وفد ضلع نظام آباد میں قائم انجینئیرنگ کالجس کا دورہ کرتے ہوئے کالجس کے عملے کے افراد ، ریکارڈس اور عمارتوں کا معائنہ کرکے JNTU کو رپورٹ پیش کی تھی ۔ ماہرین کی رپورٹس کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد JNTU نے ضلع نظام آباد میں قائم دس میں سے صرف چار کالجس کو ہی اس تعلیمی سال طلبہ کو داخلہ دینے کی اجازت دی جس میں سے ایک بودھن میں قائم آر کے کالج آف انجینئیرنگ و ٹکنالوجی بھی شامل ہے نو تشکیل شدہ ریاست تلنگانہ کی نئی حکومت کی جانب سے مسلم اقلیتی مسلمہ آر کے انجینئیرنگ کالج کو حکومت کے پیمانے پر اترنے پر بودھن ڈیویژن و ضلع نظام آباد سے تعلق رکھنے والے مسلم طلبہ و اولیائے طلباء اطمینان کا اظہار کر رہے ہیں اور کالج ہذا میں اپنے پسندیدہ برانچس میں داخلہ حاصل کرنے پہلے سے ہی نشستیں محفوظ کرنے اپنے نام رجسٹریشن کروا رہے ہیں چونکہ مذکورہ آر کے انجینئیرنگ کالج کونسلنگ کی SWII کی فہرست میں شامل ہے ۔ SWI کی کونسل کا اختتام ہونے کے بعد SEII کی کونسلنگ کا آغاز عمل میں آئے گا ۔ ضلع نظام آباد کے چھ انجینئیرنگ کالجس میں اس سال JNTU کی جانب سے داخلوں کی اجازت نہ دئے جانے پر ضلع نظام آباد سے تعلق رکھنے والے انجینئیرنگ کورسیس میں داخلہ حاصل کرنے کے خواہشمند طلبہ میں بے چینی پائی جاتی ہے ۔ آر کے کالج بودھن کے علاوہ ضلع نظام آباد مستقر پر واقع ایک بودھن انجینئیرنگ کالج اور دو مخلوعہ انجینئیرنگ کالجس میں اس سال طلبہ کو JNTU نے داخلہ حاصل کرنے کی اجازت دی ۔