ضلع میدک میں اردو اساتذہ کی جائدادیں مخلوعہ

طلبہ کی تعلیم متاثر، انسٹرکٹرس کے جلد تقررات کا مطالبہ
نارائن کھیڑ /24 اگست (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ضلع میدک میں اردو میڈیم اسکولس کا جال بچھا ہوا ہے۔ چوں کہ ضلع میدک کو بھی اردو سرکاری زبان دوم کا درجہ حاصل ہے، لیکن عمل ندارد ہے۔ ضلع میں تقریباً 240 اردو میڈیم اسکولس میں 28 ہزار طلبہ و طالبات زیر تعلیم ہیں۔ کئی اسکولس میں پیاٹرن کے لحاظ سے مضمون واری اساتذہ موجود نہیں ہیں، جس کی وجہ سے طلبہ کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے۔ سالانہ امتحانات کے فیصد میں نتائج میں بھی کمی ہو رہی ہے۔ معیاری تعلیم کا فقدان ہو رہا ہے۔ ضلع میدک میں 773 اساتذہ کی نشاندہی کی گئی ہے، جب کہ 215 ایس جی ٹیز 80 سے زائد اسکول اسسٹنٹ کی جائدادیں مخلوعہ ہیں۔ 56 اسکولس ایسے ہیں، جن میں ایک بھی مستقل ٹیچر نہیں ہے۔ 16 پرائمری اسکولس میں صرف ایک ٹیچر ہی موجود ہے، جن میں مزید اساتذہ کی سخت ضرورت ہے۔ کچھ ایسے ہائی اسکولس بھی ہیں، جو ایک استاد کے ذریعہ چل رہے ہیں۔ ان اسکولس میں پیاٹرن کے لحاظ سے مضمون واری اساتذہ کی سخت ضرورت ہے۔ اب جب کہ اردو دوست تلنگانہ سرکار اپنے پورے آب و تاب کے ساتھ حکومت کرنے کے لئے تیار ہو چکی ہے، تلنگانہ سرکار سے مسلمانوں کے اردو بہی خواہوں کی امیدیں وابستہ ہو گئی ہیں کہ ہر دلعزیز وزیر اعلی چندر شیکھر راؤ اور نائب وزیر اعلی جناب محمد محمود علی اس ضمن میں اقدامات کرتے ہوئے نئے ڈی ایس سی کا اعلان اور اردو میڈیم کے اسکولس سے انصاف کریں گے، لیکن فی الفور تعلیم بہت متاثر ہو رہی ہے، اس لئے سال گزشتہ کی طرح اردو میڈیم اکیڈمک انسٹرکٹرس کے تقررات کے لئے احکامات جاری کریں۔ صدر آئیٹا ضلع میدک جناب محمد عبد الکریم، سکریٹری جناب محمد نظام الدین، جوائنٹ سکریٹریز جناب ایاز الدین، محمد ابراہیم، نائب صدر جناب محمد معیز الدین، خازن ریاض احمد خاں، سکریٹری شعبہ نشر و اشاعت آل انڈیا آئیڈیل ٹیچرس اسوسی ایشن ضلع میدک جناب محمد معین الدین نے ارباب مجاز سے مطالبہ کیا ہے کہ طلبہ کے مفاد میں اردو اکیڈمک انسٹرکٹرس کے جلد از جلد تقررات عمل میں لائے جائیں۔