آبپاشی مشاورتی بورڈ کے اجلاس میں متفقہ قرارداد کی منظوری
محبوب نگر /11 ڈسمبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) ضلع کے آبپاشی پراجکٹس کے تحت خریف سیزن میں 62 ہزار ایکر اراضی کو کاشت کیلئے پانی فراہم کرنے کیلئے آبپاشی مشاورتی بورڈ میں متفقہ طور پر قرارداد منظور کی گئی ۔ چہارشنبہ کے دن ریونیو میٹنگ ہال میں ضلع کلکٹر جی ڈی پریہ درشنی کے زیر صدارت اجلاس کا انعقاد عمل میں آیا ۔ اجلاس میں ضلع کے اراکین اسمبلی ضلع پراجکٹس عہدیدار اور واٹر یوزرس اسوسی ایشن فارما سوسائٹیز قائدین شریک تھے ۔ اجلاس میں متفقہ طور پر جورالا پراجکٹ کے تحت 42 ہزار ایکر کوئل ساگر کے تحت 12 ہزار ایکر اور آر ڈی ایس کے تحت 8 ہزار ایکر اراضی کو سیراب کرنے کیلئے قرارداد منظور کی گئی ۔ ضلع کلکٹر نے کہا کہ کسانوں کو خریف اور ربیع میں مسائل سے نجات دلانے کیلئے ضلع انتظامیہ منصوبہ بندی کے ساتھ کام کر رہا ہے ۔ بی بھاسکر ضلع پریشد چیرمین نے کہا کہ ربیع سیزن میں پراجکٹوں کے تحت آبپاشی کیلئے درکار پانی فراہم کرنے کیلئے موثر اقدامات کی ضرورت ہے ۔ اس موقع پر مقامی ایم ایل اے وی سرینواس گوڈ ( ٹی آر ایس ) نے کہا کہ کسانوں کو دھان کی کاشت کے علاوہ کمرشیل کراپس کی تخم ریزی کیلئے شعور پیدا کیا جائے ۔ ضرورت پڑنے پر منڈل سطح پر سمینار اور دیگر پروگرام منعقد کئے جائیں ۔ سمپت کمار ایم ایل اے ( کانگریس ) عالمپور نے کہا کہ آر ڈی ایس کے تحت لائننگ اور نالے صحیح طور پر کام نہیں کر رہے ہیں ۔ جن سے دور کے فاصلہ پر موجود کھیتوں کو پانی نہیں پہونچ رہا ہے ۔ آر ڈی ایس کے تحت غیر مجاز شٹرس تعمیر کئے گئے ہیں ۔ اس کو فوری برخواست کیا جائے ۔ راجندر ریڈی ایم ایل اے ( تلگودیشم ) نارائن پیٹ نے سوال کیا کہ قرارداد میں مارچ تک پانی سربراہ کرنے کی بات کہی گئی ہے ۔ اس لحاظ سے صرف 75 دن ہی پانی سربراہ ہوگا ۔ اس عرصہ میں کونسی کاشت پوری ہوسکتی ہے ؟ کوئل ساگر کے تحت جو آیاکٹ ہے اس سے کسانوں کو مکمل طور پر پانی سربراہ نہیں ہو رہا ہے ۔ ایسے اقدامات سے کسانوں اور عوامی نمائندوں کے درمیان تلخیاں اور مسائل پیدا ہوسکتے ہیں ۔ اس موقع پر جوپلی کرشنا راؤ ایم ایل اے ( ٹی آر ایس ۹ کولاپور نے کہا کہ میں خود بھی کسان ہوں اور کسانوں کے مسائل سے واقف ہوں ۔ خریف میں 5 تا 6 ہزار ایکر اراضی پر مشتمل کھیت پانی سربراہ نہ ہونے سے سوکھ گئے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ آر ڈی ایس کنال کو ازسر نو ڈیزائن کیا جائے ۔ سی موہن ریڈی ایم ایل اے ( کانگریس ) مکتھل نے کہا کہ کوٹل ساگر اور بھیما لفٹ اریگیشن کے کاموں میں معیار برقرار نہیں رکھا جارہا ہے ۔ جبکہ ہزاروں کروڑ روپئے اس کام کیلئے خرچ ہو رہے ہیں ۔ ان تمام شکایتوں اور تجاویز کو سننے کے بعد چیف انجینئیر کھگیندر نے تمام شرکاء کو اطمینان دلایا کہ اس ضمن میں مناسب اقدامات کئے جائیں گے ۔ اجلاس میں جوائنٹ کلکٹر ایل شرمن ڈی آر او رام کشن ضلع کے آبپاشی پراجکٹس کے سرپنٹنڈنگ انجینئیر آر ڈی اوز و متعلقہ عہدیدار موجود تھے ۔